حنا ربانی کھر: پاکستان کو ایران کے خلاف مغربی پابندیوں کی پیروی کی ضرورت نہیں

16 ستمبر, 2024 14:32

شیعیت نیوز: مہر خبررساں ایجنسی کے مطابق، پاکستانی پارلیمنٹ کے خارجہ تعلقات کمیشن کی سربراہ "حنا ربانی کھر” نے اسلام آباد میں ایک ٹی وی انٹرویو میں ایران کے خلاف مغرب کی یکطرفہ پابندیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلام آباد کو پابندیوں کی تعمیل کی ضرورت نہیں ہے۔

حنا ربانی کھر نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مغربی بلاک ڈالر کی بالادستی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے، اور زور دیا کہ مغربی ممالک اپنے ایجنڈے کے تحت یکطرفہ پابندیاں لگاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پابندیاں ایک طرح کی جارحیت ہیں۔

پاکستان کی سابق وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ جو لوگ ایران کے خلاف ان پابندیوں کے پیچھے ہیں، وہ سیاسی اور اقتصادی دباؤ کے ذریعے دوسرے ممالک کو یکطرفہ پابندیوں پر عمل کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

پاکستان کی پارلیمنٹ کے خارجہ تعلقات کمیشن کی سربراہ نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ یا دیگر کثیرالجہتی اداروں نے ایران کے خلاف پابندیاں عائد نہیں کی ہیں، لیکن یہ پابندیاں یکطرفہ اور اقتصادی نوعیت کی ہیں جو کہ غربت سمیت ممالک کے مسائل کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : امت اسلامی کے تشخص کو کبھی فراموش نہ کیا جائے، رہبر معظم کا اہل سنت علماء سے خطاب

انہوں نے مزید کہا کہ ملک کو ان یکطرفہ پابندیوں کی تعمیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے، لیکن بڑی طاقتیں اپنے ایجنڈے کو منوانے کے لیے سیاسی اور اقتصادی حربے استعمال کرتی ہیں۔ ان کے مطابق یکطرفہ اقتصادی پابندیاں براہ راست عوام، خاص طور پر غریب لوگوں، پر اثر انداز ہوتی ہیں، اس لیے یہ اقدامات کھلی جارحیت ہیں۔

واضح رہے کہ امریکہ مختلف بہانوں سے تہران کے خلاف وسیع پیمانے پر یکطرفہ پابندیاں لگاتا رہا ہے۔ 2015 میں ایران اور پانچ عالمی طاقتوں کے درمیان ہونے والے معاہدے "مشترکہ ایکشن کے جامع پروگرام” (JCPOA) پر دستخط کے بعد تہران کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیاں ہٹا دی گئیں۔ تاہم، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 8 مئی 2018 کو اس معاہدے سے یکطرفہ طور پر دستبرداری کا اعلان کیا اور تہران پر دوبارہ پابندیاں عائد کر دیں۔ ان کے جانشین جو بائیڈن نے بھی ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ کی پالیسی جاری رکھی ہے۔

عالمی رائے عامہ امریکہ کی اس تسلط پسندانہ پالیسی کو واشنگٹن کی کھلی منافقت قرار دیتی ہے، جو جمہوریت کے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔

3:43 شام مارچ 7, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top