تفتان بارڈر سے زائرین اربعین کی واپسی،سرِ عام رشوت کا بازار گرم،زائرین کو مشکلات کا سامنا
شییعیت نیوز: تفتان بارڈر پر عوامی شکایات کے باوجود اعلیٰ حکام کی طرف سے عوام کی احوال پُرسی کا کوئی انتظام نہیں۔
لوگوں کے پاس ویزے ہونے کے باوجود اُن سے رشوت لینے کیلئے انہیں اُس وقت تک وہاں روکے رکھا جاتا ہے، جب تک وہ اہلکاروں کی مُٹھی گرم نہ کریں۔
مُٹھی گرم کرکے بہت سارے جرائم پیشہ افراد کا بارڈر کراس کرنا کس حد تک امکان پذیر ہے، اسے ہر صاحبِ عقل بخوبی سمجھتا ہے، لیکن کوئی بارڈر کیلئے چیک اینڈ کنٹرول کی پلاننگ کرنے یا یہ ماننے کیلئے تیار ہی نہیں کہ بارڈر پر یہ سب ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تفتان بارڈر : سہولیات کی عدم دستیابی کے باعث زائرین کا احتجاج
جو طالب علم اس بارڈر سے سفر کرتے ہیں، ان کے ساتھ اُن کے والدین اور عزیز و اقارب بھی زیارت کی غرض سے ویزے کے ہمراہ جا رہے ہوتے ہیں، لیکن انہیں عزت دینے کی بجائے خوب اذیت دی جاتی ہے
اور مختلف بہانوں سے وہاں بارڈر پر گھنٹوں بٹھائے رکھا جاتا ہے۔
تفتان بارڈر پر مسافروں کو اذیت دینے کا جتنا انتظام کیا گیا ہے، اگر اس اذیّت کی بجائے بارڈر پر عوام سے فیڈبیک لینے اور سرکاری اہلکاروں کی مانیٹرنگ کا انتظام کیا جاتا تو رشوت، اسمگلنگ اور دہشت گردی کو بلوچستان میں بڑی حد تک روکا جا سکتا تھا۔
ہمارے ہاں عام لوگوں کو لائنوں میں گھنٹوں کھڑا کرنے، انہیں ذلیل و رسوا کرنے اور ٹارچر کرنے کو بہادری سمجھ لیا گیا ہے۔
بہادری اور شجاعت عوام کو اذیّت دینے کا نام ہرگز نہیں۔
اگر ہمیں اپنی ملکی صورتحال کو بدلنا ہے تو ہمیں اس سوچ کو بدلنا ہوگا۔







