مقبوضہ فلسطین

حماس : 70 فیصد صہیونی قیدی مارے جا چکے ہیں

فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک (حماس) کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا: صہیونی فوجی طاقت کے دم پر اپنے قیدیوں کو رہا کرانا چاہتے ہیں لیکن ان میں سے 70 فیصد قیدی اسرائیلی بمباری میں مارے جا چکے ہیں۔

شیعیت نیوز : حماس کے اسلامی اور عربی تعلقات کے دفتر کے سربراہ خلیل الحیہ نے کہا : ہم طویل عرصے تک دشمن کے خلاف مزاحمت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

غزہ پر جاری حملے کو آٹھ ماہ گزر جانے کے بعد اور قابض صہیونی حکومت کے مسلسل حملے اور ان حملوں میں امریکہ کی مدد کے باوجود دشمن مزاحمت کو تباہ کرنے میں ناکام رہا ہے۔

ہم غاصب صیہونیوں کے خلاف لڑنے اور اپنی قوم کا طویل عرصے اور مسلسل کئی مہینوں تک دفاع  کر سکتے ہیں۔

مزاحمت نے ضائع شدہ صلاحیتوں کو دوبارہ اور از سر نو حاصل کیا ہے اور ہم اپنی صلاحیتوں کے مطابق مختلف حالات کے مطابق خود کو ڈھال سکتے ہیں۔

ہم ایک ایسے معاہدے کی تلاش میں ہیں جس سے صہیونی قیدیوں کے مقابل اپنے قیدیوں کو رہا کرا سکیں۔

یمن، لبنان اور عراق کےمزاحمتی محاذوں نے اپنے حملوں کو غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے خاتمے تک جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : غاصب اسرائيل کی نابودی یقینی ہے، اسماعیل ہانیہ

جب ہم علاقے میں مزاحمتی قوتوں کے ذمہ داران سے سے ملتے ہیں تو ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر جنگ ایک ہے تو مذاکرات بھی ایک ہی ہوں گے۔

دشمن جس جنگ کو طول دینا چاہتا ہے، اس کے لیے سب کو طویل عرصے کے لیے تیار رہنا چاہیے، اور ہماری قوم کے پاس مزاحمت اور لڑنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

مذاکرات کا ہمارا مقصد جنگ کا مکمل خاتمہ، غزہ سے اسرائیلی فوج کا مکمل انخلاء اور اس کے بعد قیدیوں کے تبادلے کا معاہدہ ہے۔

حالیہ تجویز جو ہمارے سامنے رکھی گئی تھی وہ ہمارے مطالبات کے بالکل قریب ہے لیکن دشمن نے اس تجویز کا احترام نہیں کیا اور نہ ہی ثالثوں کا احترام کیا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button