اہم ترین خبریںدنیا

ایرانی حملہ سے اسرائیلی ہوئی اڈے کو نقصان ہوا:بی بی سی نیوز کی چشم کشا رپورٹ

دوحہ انسٹیٹیوٹ کے عسکری امور کے تجزیہ کار عمر آشور کا کہنا ہے کہ ’ایران کے پاس اس حملے کی ابتدا کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات تھیں۔‘

شیعیت نیوز: ایران اور اسرائیل دونوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے 13 اپریل کو ہونے والے حملے میں کامیابی حاصل کی۔

ایک جانب ایران یہ کہہ رہا ہے کہ اس  نے اسرائیل پر کامیابی سے حملہ کیا جبکہ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ اس نے یہ حملہ ناکام بنا دیا۔

ایران کے اعلیٰ فوجی کمانڈروں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اسرائیل پر حملے کو ’محدود‘ رکھا اور ان کا ہدف‘ اسرائیلی آبادی اور اقتصادی مراکز‘ نہیں بلکہ فوجی اڈے تھے۔

اسرائیل نے 19 اپریل کو ایک جوابی کارروائی میں ایران پر حملہ کیا ہے جس کی تفصیلات ابھی تک معلوم نہیں۔

ہم ایران کے اسرائیل پر کیے گئے حملے میں ہونے والے نقصان کو سمجھنے کے لیے سیٹلائٹ تصاویر، ویڈیوز، تصاویر اور فوجی عہدیداروں کے بیانات کا جائزہ لیتے ہیں اور اس کے ذریعے اس بات کی وضاحت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہمیں اب تک اس حملے سے متعلق کیا معلوم ہے اور کیا نہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے خبر دی ہے کہ اسرائیل پر ایرانی حملے میں نوایتم ایئر بیس کے رن وے کے ایک حصے کو نقصان پہنچا۔

اسرائیل نے اس نقصان کو ’معمولی‘ قرار دیا اور اسرائیلی فوج کی 19 سیکنڈ کی ویڈیو میں یہ دکھایا گیا کہ لڑاکا طیارے فضائی اڈے سے اڑان بھر رہے ہیں تاکہ یہ پیغام دیا جائے کہ اس حملے سے اڈے کے امور میں خلل نہیں پڑا، لیکن ویڈیو میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ طیارے پانچ فضائی اڈوں میں سے کس سے اڑان بھر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران اسرائیل کو زمین بوس کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے: صہیونی جرنیل کا اعتراف

اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہاگری نے یہ بھی کہا کہ اسرائیلی جنگی طیارے خطے میں خطرات کے خلاف فوجی کارروائی کر رہے ہیں۔

تاہم ایران کا کہنا ہے کہ نوایتم اسرائیلی ایف 35 سٹیلتھ لڑاکا طیاروں کا اڈہ ہے جنھوں نے دمشق میں ایرانی قونصل خانے کی عمارت پر حملے میں حصہ لیا تھا۔

اسرائیل نے نوایتم بیس سے ایرانی قونصل خانے پر حملے کی نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی اس کی تردید کی۔

دوحہ انسٹیٹیوٹ کے عسکری امور کے تجزیہ کار عمر آشور کا کہنا ہے کہ ’ایران کے پاس اس حملے کی ابتدا کے بارے میں انٹیلی جنس معلومات تھیں۔‘

ایک اور نکتہ جسے اسرائیلی حکام نے ایران کی جانب سے اس کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے سب سے بڑے نقصان کے طور پر بیان کیا ہے وہ ایک نئی تعمیر شدہ عمارت کی دیوار کے ساتھ ایک گڑھا ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button