مدرسے سے تحریک بیداری کے اقتدار تک علامہ جواد نقوی کو کوئی اور شخص دکھائی نہیں دیتا؟ اسدعباس کا چشم کشا کالم

12 فروری, 2024 10:20

 شیعیت نیوز : جامعہ عروۃ الوثقی کے پرنسپل علامہ جواد نقوی نے حالیہ الیکشن کے بعد ملت تشیع پاکستان کے مجتہدین کے برخلاف سیاسی ترویج شروع کردی۔

 کالم نگار اسد عباس کے مطابق  برسوں سے مولانا جواد نقوی نے الیکشن کے بعد خطبہ جمعہ میں  اپنی سابقہ روش کے مطابق جمہوریت کو آڑے ہاتھوں لیا۔

انتخابات میں ووٹ دینے کو فاسقوں کے ہاتھوں دین بیچنا قرار دیا۔

اس خطبہ میں انہوں نے بتایا کہ جمہوریت کے سبب معاشرہ تقسیم ہوگیا ہے، لوگ ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہوگئے ہیں۔

انتخابات میں معاشرتی عدالت کو نابود کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو حاکم کے انتخاب کا حق نہیں ہے، دین یہ حق عوام کو نہیں دیتا ہے، یہ تقریباً وہی باتیں ہیں جو وہ  عرصہ دراز سے اپنے پیروکاروں کا پڑھا رہے ہیں۔

سپریم لیڈر ایران آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ابھی چند روز قبل فضائیہ کے اراکین سے خطاب کرتے ہوئے کہا

انتخابات میں عوام کی بھرپور شرکت ملک کے اقتدار اورسیکورٹی کے ضامن ہیں۔ (رسالت اخبار ایران)

اسی طرح ایک اور خطاب میں کہا :
انتخابات میں شرکت کرنا عوام کا حق ہے۔ (صبح نو اخبار )

آئمہ جمعہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
انقلاب اسلامی عوام کی موجودگی، خواہش اور اقدام کے بغیر ممکن نہیں۔ (جوان اخبار ایران )

بندہ جواد نقوی صاحب سے پوچھے کہ آپ کیسے جمہور کی رائے، انتخابات اور اپنے نمائندے چننے کو فسق و فجور کہ رہے ہیں۔

کیا آپ مراجع سے زیادہ دین کو سمجھتے ہیں؟

ممکن ہے قبلہ کہیں کہ ایران میں اسلامی نظام ہے وہاں انتخابات، جمہور کی رائے، پارٹیاں جائز ہیں پاکستان میں یہ سب ناجائز ہے تو قبلہ آپ کو مرجع شیعان جہان صاحب کتاب کفایۃ الاصول آیت اللہ آخوند خراسانی کی بارگاہ میں لئے چلتے ہیں۔

آخوند خراسانی نے اگرچہ جمہوریت کو شرعی حکومت نہیں کہا لیکن اسے اسلامی جوہر کے مطابق قرار دیا۔ وہ لکھتے ہیں: "ایران کی بری و بحری حدود کی حفاظت اور موجودہ بادشاہت کا دفاع شرعی ذمہ داری نہیں ہے، آئینی جمہوریت کے لئے ہماری حمایت دراصل اسلام کے جوہر کا تحفظ کرنا ہے”۔

آخوند خراسانی نے ایران میں بادشاہت کے خاتمے کے لئے آئینی و جمہوری جدوجہد یعنی مشروطہ کی تحریک کی نہ فقط حمایت کی بلکہ اس کی مکمل سرپرستی کی اور اس تحریک میں آیت اللہ اسماعیل محلاتی، آیت اللہ عبد اللہ مازندرانی، آیت اللہ نائینی اور دیگر مراجع شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: جواد نقوی کا دوغلا پن آشکار،اپنوں سے دور غیروں سے پیار 

آیت اللہ خمینی بھی اس تحریک کے حامیوں میں سے تھے اور انہوں نے اپنی اوائل انقلاب کی تقاریر میں جگہ جگہ مشروطہ، پارلیمان کے تحفظ اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کی بات کی۔

مراجع ثلاثہ یعنی آیت اللہ آخوند خراسانی، آیت اللہ مازندرانی اور آیت اللہ اسماعیل محلاتی نے تو عدل و انصاف کے قیام کے لئے اٹھنے والی جمہوری تحریک کی مخالفت کو امام زمانؑ سے جنگ کے مترادف اور یزید کی حمایت قرار دیا۔

قبلہ جواد سے ایک معصومانہ سوال ہے کہ یہ مراجع عظام جن کی کتب پڑھ کر آپ نے دین کو سمجھا ہے کیسے جمہوریت کو جوہر اسلام قرار دے رہے ہیں اور عدل و انصاف کے قیام کے لیے اٹھنے والی جمہوری تحریک کی مخالفت کو امام زمانؑ سے جنگ قرار دے رہے ہیں، یہ مراجع کیسے عوام کو اپنا نمائندہ چننے کا اختیار دے رہے ہیں۔

حاکم شرع کا انتخاب واقعا عوام کا حق نہیں ہے لیکن کیا ہم اپنے وکیل بھی متعین نہیں کر سکتے۔

قبلہ کی گفتگو میں بہت سے مغالطے ہیں، انتخابات اقتدار کو میدان رقابت میں رکھ دینا ہے جیسے شادی ہال میں کھانا کھول دیا جاتا ہے کہ جس میں طاقت ہے کھا لے، اس مغالطے میں قبلہ نے انتخاب کے تمام قوانین کو پس پشت ڈال دیا۔

وہ کہتے ہیں جمہوریت کے سبب معاشرے میں تقسیم پیدا ہوتی ہے، وہ بھول گئے کہ اسی جمہوریت اور آئینی نظام کے سبب سندھی، بلوچ، پنجابی، پٹھان، مہاجر، سنی، شیعہ، اہل حدیث، دیوبندی غرضیکہ مختلف معاشرتی گروہ ایک اکائی کے طور پر شرکت کرتے ہیں اور ملک کی تقدیر کو سنوارنے کے لیے اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔

جس چیز کو وہ تقسیم کہہ رہے ہیں وہ دراصل مختلف قومیتوں، نسلوں کو مشترکہ مقاصد پر مجتمع کرنے کا نام ہے۔

اس میں شک نہیں کہ ہمارا جمہوری نظام مثالی نہیں  ہے، اس میں جمہوریت کی روح کے مطابق عمل نہیں ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود یہ نظام بہرحال عوام کو صاحب اختیار بناتا ہے، کسی نہ کسی سطح پر نمائندوں کو عوام کے سامنے جوابدہ بناتا ہے۔

قبلہ چاہتے ہیں کہ ملک میں امامت قائم ہو لیکن ان کے پاس وہ امام نہیں ہے جسے انہوں نے اس مقام پر متعین کرنا ہے۔

وہ کہتے ہیں جس میں شہرت، اقتدار اور ثروت کا لالچ ہو وہ امام نہیں بن سکتا۔ قبلہ امام امت کے لیے پہلی شرط اس کا خدا کی جانب سے متعین ہونا ہے۔

آپ جتنا مرضی پاکیزہ انسان لے آئیں اس کے دل میں جھانک کر نہیں دیکھ سکتے کہ اس کے اندر کس چیز کا لالچ موجود ہے نیز خواہ کوئی بھی ہو ہم حاکم شرح متعین نہیں کر سکتے۔

یہ خداوند کریم کا اختیار ہے۔ بہرحال یہ ایک طویل بحث ہے جس کے لیے مراجع کے مابین ولایت مطلقہ اور ولایت خاصہ کی بحث کو دیکھا جا سکتا ہے۔

قبلہ نے اپنے خطبے کے اختتام میں اہل غزہ کی حمایت کی بات کی لیکن اس تقریر میں تقریبا سبھی مسلمان ممالک کو ایک ہی صف میں کھڑا کرکے رگڑ گئے کہ مسلم ممالک کے سربراہ، علماء اور جرنیل سب خاموش ہیں اور ان افراد کے لئے جس قرآنی تشبیہ کا انھوں نے استعمال کیا وہ میں دہرا نہیں سکتا۔

اپنی گفتگو سے وہ اپنے پیروکاروں کو یہ باور کروا رہے تھے کہ ہمارے سوا اہل غزہ کا کوئی حامی نہیں رہ گیا، کوئی بھی متقی نہیں ہے، کسی کو بھی اسلام کا پاس نہیں رہا، کوئی بھی قرآنی تعلیمات کو مدنظر نہیں رکھ رہا۔

قبلہ کے یہ مغالطے نوجوان اذہان کو آلودہ کر رہے ہیں جس کے سبب اکثر وہ اہل مذہب، مراجع، مذہبی تنظیموں اور دوسروں کے عقائد کی توہین کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

قبلہ کہتے ہیں کہ امام کا کام جوڑنا ہے لیکن وہ خود تقسیم در تقسیم کے منشور پر عمل پیرا ہیں۔

قبلہ کہتے ہیں شہرت، اقتدار اور ثروت کا لالچ رکھنے والا امام نہیں ہو سکتا حالانکہ خود تقریباً ہر جمعہ بلا تعطیل ایسی بات ضرور کرتے ہیں جس سے ان کی شہرت میں اضافہ ہو

کسی کا اقتدار ان کو نہیں بھاتا اسی وجہ سے وہ ہر کسی کو کوستے ہوئے اور اس پر تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

مدرسے کے اقتدار سے لے کر تحریک بیداری کے اقتدار تک اور وہاں سے لے کر امت کے اقتدار تک ان کو اپنے علاوہ کوئی اور شخص دکھائی نہیں دیتا۔

5:39 صبح مارچ 9, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top