اسرائیلی اقتصاد کو بڑا نقصان، 20 سال پیچھے ہوا
شیعیت نیوز : صیہونی حکومت کے سینئر ماہرین اقتصادیات نے القدس کی عبرانی یونیورسٹی میں ایک ویبینار میں غیر ملکیوں کی اسرائیل میں سرمایہ کاری سے ہچکچاہٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی معیشت کو جنگی اخراجات کے سائے میں 20 سال پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔
فارس نیوز کے مطابق کا کہنا ہے کہ ہم ماہ بہ ماہ مزید حیران ہوتے جا رہے ہیں، ہم نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ہم جنگ کے لیے تقریباً 200 بلین شیکل یعنی 54 بلین ڈالر کی لاگت تک پہنچ جائیں گے جبکہ ہم ابھی بھی راستے میں ہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :اقوام متحدہ میں یہودی خاخاموں کا غزہ میں جنگ بند کرانے کا مطالبہ
اسرائیلی اداروں کا نظریے اور دوسروں کے نظریہ میں زمین آسمان کا فرق ہے۔
سینئر صیہونی ماہر اقتصادیات رینات اشکنازی کا کہنا ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نظر میں، ہم جو دیکھ رہے ہیں، اس سے کہیں زیادہ بدتر حالات میں ہیں، جو ہم سمجھتے ہیں۔
صیہونی ماہرین اقتصادیات غزہ کے لیے جنگ کے بعد کے آپشنز کا جائزہ لے رہے ہیں اور موجودہ اشاروں میں انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اسرائیل کی معیشت کا بحران عارضی نہیں ہے بلکہ طویل مدتی ہوگا۔







