اسرائیل کی جانب سے اسیروں کے تبادلے کے معاہدے کی خلاف ورزی پر جہاد اسلامی کا انتباہ
شیعیت نیوز: فلسطین کی مقاومتی تحریک جہاد اسلامی کے سربراہ زیاد النخالہ نے کہا کہ وہ صیہونیوں کے رد عمل اور اسیروں کے تبادلے کے مذاکرات کے طریقہ کار پر اس معاہدے سے دستبرداری کا سوچ رہے ہیں۔
زیاد النخالہ نے کہا کہ ہم حالات ٹھیک ہونے تک صیہونی اسیروں کو اپنے پاس رکھیں گے۔
قبل ازیں امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے رپورٹ دی تھی کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان بھی اسیروں کے تبادلے کے حوالے سے دو منصوبوں پر مذاکرات جاری ہیں۔ پہلے منصوبے کے تحت قلیل تعداد میں صیہونی اسیروں کا آزاد کیا جانا شامل ہے جب کہ دوسرے منصوبے کے تحت 100 یرغمالیوں کی رہائی بھی ممکن ہے۔
یہ بھی پڑھیں : عرب حکومتیں غزہ پر صیہونی تسلط چاہتی ہیں، سید عبدالمالک الحوثی
پہلے منصوبے کے تحت حماس جنگ میں مختصر وقفے کے بدلے 10 سے 20 قیدیوں کو رہا کرے گی۔ جب کہ حماس کی جانب سے مستقبل میں مزید 100 قیدیوں کو رہا کرنے کا امکان ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق، حماس نے صیہونی فوجیوں کی بجائے قابض آباد کاروں کی رہائی اس شرط پر قبول کی ہے کہ اس کے بدلے جنگ میں وقفہ، انسانی ہمدردی کی بنا پر بھیجی گئی امداد تک رسائی، ہسپتالوں کے لئے ایندھن اور اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینی بچوں و خواتین کی رہائی شامل ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے کئی روز سے الشفا اسپتال کو گھیرے میں لیا ہوا ہے اور اس کے اندر موجود ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بجلی کے جنریٹرز کیلئے ایندھن نہ ہونے کے باعث وہ مریضوں کا علاج کرنے سے قاصر ہیں۔
خیال رہے کہ غزہ پر اسرائیلی بمباری اور زمینی آپریشن کے باعث غزہ کے 35 میں سے 25 اسپتال غیر فعال ہوچکے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج نے الشفا اور القدس اسپتالوں کے اطراف محاصرہ سخت اور انٹرنیٹ سمیت مواصلاتی رابطے بھی منقطع کر دیئے ہیں۔
غزہ میں مسلسل 39 ویں روز اسرائیلی طیاروں کی بمباری سے شہداء کی تعداد 11 ہزار 500 سے زائد ہوچکی ہے۔







