حماس کی پاپوا نیو گنی کے القدس میں سفارت خانہ کھولنے کے اعلان کی مذمت
شیعیت نیوز: اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے پاپوا نیو گنی کے مقبوضہ بیت المقدس میں سفارت خانہ کھولنے کے اعلان کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
حماس کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ہمارے فلسطینی عوام کے حقوق کی صریح خلاف ورزی ہوگی اور ہماری مقبوضہ زمین پر قابض صیہونی ریاست کو کوئی قانونی حیثیت نہیں دے گی۔
یہ بھی پڑھیں : مغربی کنارے میں 24 گھنٹوں کے اندر 13 مزاحمتی کارروائیاں
کل پیر کو ایک بیان میں حماس کے ترجمان جہاد طٰہ نے پاپوا نیو گنی کے حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ یروشلم کو مقبوضہ فلسطینی شہر سمجھتے ہوئے اس فیصلے کو فوری طور پر واپس لیں جو کہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی ہے۔
انہوں نے اس پر زور دیا کہ وہ غاصب صہیونی ریاست کے ساتھ اپنے تعلقات کا از سر نو جائزہ لے جو ہمارے لوگوں، ہماری سرزمین اور ہمارے مقدسات کے خلاف جرائم جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کے اقدامات سے بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں : علامہ مفتی جعفر حسین کی اعتدال پسندی، اتحاد یکجہتی ہمارے لئے مشعل راہ ہیں، علامہ ساجد نقوی
جمہوریہ سیرالیون جس نے مقبوضہ بیت المقدس میں سفارت خانہ کھولنے کے لیے تیاری کا اعلان کیا ہے پر تبصرہ کرتے ہوئے حماس نے کہا کہ یہ بدقسمتی سے حکومت سیرالیون کی طرف سے ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صہیونی جرائم اور ہمارے لوگوں، ہماری سرزمین اور ہمارے مقدسات کے خلاف دہشت گردی میں شدت آتی جا رہی ہے۔
تحریک حماس کے ترجمان عبداللطیف القانوع نے جمہوریہ سیرالیون سے مطالبہ کیا کہ وہ اس غلط مؤقف کو ترک کرے اور فلسطینی عوام کے منصفانہ نصب العین کے ساتھ کھڑا ہو۔





