ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے سے صہیونی حکومت پریشان

16 جون, 2023 16:49

شیعیت نیوز: غاصب صہیونی حکومتی ایوانوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔ تل ابیب کے حکام کے مطابق یہ معاہدہ کسی بھی لحاظ سے اسرائیل کے حق میں نہیں ہوگا۔

المیادین کے مطابق عبرانی روزنامہ معاریو نے لکھا ہے کہ ان خبروں کے سامنے آنے کے بعد تل ابیب کے حکام میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ دفاعی حکام نے غاصب حکومت کو اس ممکنہ معاہدے کے اثرات اور نتائج سے آگاہ کیا ہے۔

تل ابیب کے اعلی حکام کے مطابق ایران کی طرف یورنئیم کی افزودگی میں کمی کے بدلے میں مختلف ممالک میں منجمد 20 ارب ڈالر سے زائد اثاثے دوبارہ بحال ہونے سے ایران کی معیشت کو بہت مدد ملے گی اور اس رقم کو اسرائیل مخالف تنظیموں پر خرچ کیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں : بائپر جوائے طوفان کی تباہ کاریاں، آج طوفان کا زور ٹوٹنے کا امکان

روزنامہ معاریو کے مطابق اسرائیلی حکام امریکی رویے سے نالاں ہیں کیونکہ انہوں نے ایران کے ساتھ ہونے والے پس پردہ مذاکرات کے حوالے سے صہیونی حکومت کو اعتماد میں نہیں لیا ہے۔ معروف اسرائیلی اخبار کے مطابق موجودہ حالات میں اسرائیل معاہدے کے بارے میں تفصیلات حاصل کرنے سے قاصر ہے۔

عبرانی ذرائع ابلاغ نے خبردی ہے کہ تل ابیب کے حکام کو نیتن یاہو اور جو بائیڈن کے درمیان کشیدگی اور مقبوضہ علاقوں کی صورت حال پر تشویش ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں واشنگٹن پر تل ابیب کا اثررسوخ کم ہوگیا ہے۔

اخبار کے مطابق صہیونی وزیراعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر کے درمیان اسرائیل میں مجوزہ عدالتی اصلاحات اور مقبوضہ علاقوں کی صورت حال کے حوالے سے کشیدگی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے مستقبل میں اسرائیل کے مفادات کو خطرہ لاحق ہے۔ ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو کانگریس کی اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی اس لیے اسرائیل کی تشویش میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

4:02 صبح مارچ 11, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔