مقبوضہ فلسطین

جنین: قابض اسرائیلی فوج نے شہید محمود کمیل کے والد کو گرفتار کر لیا

شیعیت نیوز: قابض اسرائیلی فوج نے ہفتہ کی صبح غرب اردن کے شمالی شہر جنین کے جنوب میں واقع قصبے قباطیہ میں شہید محمود کمیل کے والد عمر کمیل کو ان کے گھر پر دھاوا بول کر گرفتار کر لیا۔

مقامی ذرائع کے مطابق علاقے میں مزاحمت کاروں کے ساتھ مسلح جھڑپوں کےدوران فوج نے قصبے پر دھاوا بول دیا۔ گھر گھر تلاشی کی مہم کے دوران قابض فوج نے عمرکمیل  کے گھر پر چھاپہ مارا اور انہیں  گرفتار کر لیا۔

20 دسمبر 2020 کو مقبوضہ بیت المقدس میں ایک گوریلا کارروائی میں جام شہادت نوش کرنے والے محمود کمیل کا جسد خاکی ابھی تک اسرائیلی فوج نے قبضے میں لے رکھا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق قابض اسرائیلی فورسز نے زبابدہ اور مسلیہ قصبوں پر دھاوا بول دیا، جس کے نتیجے میں جھڑپیں ہوئیں، مقامی ذرائع کے مطابق، کسی کے زخمی ہونے یا گرفتاری کی اطلاع نہیں ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ قابض اسرائیلی فورسز نے جنین کے شمال مشرق میں الجلمہ اور عربونہ کے دیہاتوں پر دھاوا بول دیا اور بڑے پیمانے پر تلاشی مہم شروع کی۔

قابض اسرائیلی فوج روزانہ چھاپہ مار مہم چلاتی ہے جس میں شہریوں کی گرفتاریاں اور ان کی املاک پر حملے کیے جاتے۔

یہ بھی پڑھیں : حضرت علی اکبر ع والد گرامی کے ساتھ دین اسلام کی سربلندی کے لئے مصروف عمل رہے

دوسری جانب جمعہ کی شام قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے میں رام اللہ کے گورنری کے الگ الگ علاقوں میں تین شہریوں کو گرفتار کیا۔ رام اللہ میں متعدد مقامات پر اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔

مشرقی سلواد قصبے میں قابض اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں کے درمیان تصادم ہوا۔ اس دوران اسرائیلی فوج نے درجنوں نوجوانوں کے تعاقب کے دوران گیس بم اور دھات کی گولیوں کی فائرنگ کی۔ اس دوران اسرائیلی فوج نے  ایک فلسطینی نوجوان تامر محمود سعد کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد گرفتار کرلیا۔

البیرہ کے شمالی داخلی راستے پر فلسطینی نوجوانوں کے ایک گروپ اور اسرائیلی فوج کے مابین جھڑپیں ہوئیں۔ جہاں اسرائیلی قابض فوج نےایک فلسطینی نوجوان کو گرفتار کرلیا۔

قبضے کی افواج نے رام اللہ کے قریب بیتونیا کے قصبے پر طوفان برپا کردیا اور نوجوان عبد اللہ ابو حامد کو گرفتار کیا اور اسے نامعلوم منزل میں منتقل کردیا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button