مشرق وسطی

صیہونی مسلح انتہا پسند آباد کاروں کو دہشت گرد قرار دیا جائے، عرب پارلیمنٹ

شیعیت نیوز: عرب ملکوں کی پارلیمان نے فلسطینیوں کے خلاف مسلح انتہا پسند صیہونی آباد کاروں کی بڑھتی جارحیت پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے ان صیہونیوں کو دہشت گرد قرار دیئے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

النشرہ کی رپورٹ کے مطابق عرب ملکوں کی پارلیمان نے بدھ کو ایک بیان میں عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی عوام اور ان کی املاک پر صیہونی کابینہ کے حمایت یافتہ مسلح انتہا پسند صیہونی آباد کاروں کے حملے فوری طور پر بند کرائے۔

اس بیان میں عرب پارلیمان نے غرب اردن کے مختلف علاقوں خاصطور سے نابلس کے جنوب میں الحوارہ میں فلسطینیوں کے خلاف انتہا پسند صیہونیوں کی جارحیت سے سیکورٹی کی پیدا ہونے والی صورت حال پر سخت خبردار کیا اور اس جارحیت کی شدید مذمت کی۔

یہ بھی پڑھیں : فلسطینی جوانوں کی ایک دن میں 61 کارروائیاں

اس بیان میں تاکید کی گئی ہے کہ اس طرح کی پیدا ہونے والی صورت حال کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے جس کی ذمہ دار غاصب صیہونی حکومت ہی ہوگی۔

اس بیان کے مطابق غرب اردن کی یہ صورت حال ایسی حالت میں بنی ہے کہ عالمی برادری نے ابھی الدوابشہ اور ابو خضیر کے گھرانوں کو نذر آتش کئے جانے، مسجد الاقصیٰ کو جارحیت کا نشانہ بنائے جانے اور مسجد ابراہیمی میں ہونے والے قتل عام کو فراموش نہیں کیا ہے۔

دوسری جانب قطر نے دمشق کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے انقرہ کے بار بار اعلان کے بعد دوحہ میں اپنے سفارت خانے سے نام نہاد ’’شامی اپوزیشن اتحاد‘‘ کے نمائندوں کو بے دخل کر دیا۔

نام نہاد ’’شام کی انقلابی نوجوان تحریک‘‘ کے مشیر ’’وائل خالدی‘‘ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا کہ دوحہ نے شامی سفارت خانے کی عمارت کو شامی حکومت کے حوالے کرنے کی کوشش میں خالی کر دیا۔

شامی سفارت خانے کے انچارج ’’بلال ترکی‘‘ کو بھی سفارت خانے سے منسلک عمارت میں منتقل کر دیا گیا۔

متعلقہ مضامین

Back to top button