امریکہ نے چین کی فوج سے منسلک 6 اہم کمپنیوں پر پابندی لگا دی
شیعیت نیوز: امریکی فضاؤں میں جاسوسی غبارے بھیجنے پر صدر جوبائیڈن نے چین کی فوج سے منسلک 6 اہم کمپنیوں پر پابندی عائد کردی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکہ کے کامرس ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر جوبائیڈن نے چین کی 5 اہم کمپنیوں اور ایک ریسرچ انسٹیٹیوٹ پر پابندی عائد کردی ہے۔
امریکہ نے جن کمپنیوں پر پابندی عائد کی ہے وہ چین کے نگرانی کے بیلون پروگرام سے منسلک تھے۔ ان سب کو امریکہ میں بلیک لسٹ کردیا گیا ہے۔
بلیک لسٹ میں نانگ یانگ ایوی ایشن ٹیکالوجی اور ڈونگ گوانگ لنگ کونگ ٹیکنالوجی بھی شامل ہے۔
یہ کمپنیاں چین کی فوج کے لیے طیاروں اور جاسوسی غباروں پر مشتمل ہوا بازی کے جدید پروگرامز تیار کر رہی ہیں۔
امریکہ نے جاسوسی غباروں کی فضائی حدود میں داخل ہونے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا تھا۔
خیال رہے کی رواں ہفتے امریکہ نے ایک جاسوسی غبارہ اور ایک مشکوک چیز کو فضا میں ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جو چین کی جانب سے امریکی فضائی حدود میں بھیجے گئے تھے۔
چین نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ جاسوسی غبارے موسمیاتی تبدیلیوں پر کام کرنے والی ایک پرائیوٹ کمپنی کی ملکیت تھے جس کا چین کی فوج سے کچھ لینا دینا نہیں تاہم چین نے جاسوسی غبارے کو تباہ کرنے پر شدید تنقید بھی کی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی فوج سمیت کسی بھی ٹیکنیکل ماہر کو عراق میں رہنے کا حق حاصل نہیں، اکرم الکعبی
دوسری جانب امریکی لڑاکا طیارے نے کینیڈا کے اوپر فضا میں پرواز کرنے والی ایک نامعلوم شے کو مار گرانے کا دعوی کیا ہے۔
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور کینیڈا کے مشترکہ فوجی آپریشن کے نتیجے میں اس پراسرار چیز کو مار گرایا گیا۔
کینیڈا کی وزیر دفاع انیتا آنند نے کہا کہ شمالی کینیڈا کے علاقے یوکون میں گرائی گئی۔ پراسرار شے ’چھوٹی اور سلینڈر نما‘ تھی۔
اس واقعے کے بعد محکمہ شہری ہوابازی نے ریڈار میں مبینہ خلل کے سبب شمال مغربی امریکی ریاست مونٹانا کے اوپر فضائی حدود کا کچھ حصہ بند کردیا تھا جو بعد میں اسے کھول دیا گیا۔
گزشتہ ہفتے ایک مشتبہ چینی جاسوس غبارے کو مار گرائے جانے کے بعد یہ شمالی امریکہ کی فضا میں پیش آنے والا اس نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے۔







