پارٹی نام، پرچم اور انتخابی نشان؟؟؟؟ ایم کیو ایم کے اتحاد میں رکاوٹیں شروع
شیعیت نیوز: ایم کیو ایم کے تمام دھڑوں کو متحد کرنے کی کوششوں میں تیزی سے سامنے آنے والی پیش رفت میں رکاوٹ آنا شروع ہوگئی ہے۔ ایم کیو ایم کو پی ایس پی کی جانب سے پارٹی کے نام پرچم اور انتخابی نشان کو تبدیل کرنے کا دباؤ ہے، تاہم ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ اس حوالے سے کوئی دباؤ قابل قبول نہیں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم پر پارٹی کا نام، پرچم اور انتخابی نشان تبدیل کرنے کا بہت زیادہ دباؤ ہے مگر انہوں نے اس پر رضامندی ظاہر نہیں کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سی ٹی ڈی کا تکفیری وہابی دہشتگردوں کے نیٹ ورک کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن
پی ایس پی کی طرف سے بھی پارٹی کے نام، پرچم اور انتخابی نشان کو تبدیل کرنے کی تجویز دی گئی ہے، اس حوالے سے اگلے دو سے تین دن میں صورت حال مزید واضح ہوگی۔ امکان ہے کہ ایم کیو ایم کا ایک وفد اتوار کو ڈاکٹر فاروق ستار سے ملاقات کرکے انہیں ایم کیو ایم میں واپسی کی دعوت دے گا، انضمام کی صورت میں سینٹرل کمیٹی بنائی جائے گی جس میں ڈاکٹر خالد مقبول سربراہ جبکہ ارکان میں ڈاکٹر فاروق ستار، مصطفی کمال، انیس قائم خانی، خواجہ اظہار، وسیم اختر اور دیگر شامل ہوں گے۔







