اہم ترین خبریںپاکستان

پاکستان سنگین سیاسی و معاشی بحران کا شکار ہے، علامہ شبیر میثمی کی لاہور میں پریس کانفرنس

صحافیوں سے گفتگو کے موقع پر شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کے ہمراہ علامہ حافظ کاظم رضا نقوی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ، علامہ فیاض مطہری، علامہ اشتیاق کاظمی، قاسم علی قاسمی اور صغیر ورک سمیت دیگر علماء بھی موجود تھے۔

شیعیت نیوز: شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے کہا ہے کہ وطن عزیز پاکستان سنگین سیاسی عدم استحکام، معاشی بحران اور امن و امان کی صورتحال سے دوچار ہے لیکن اناوں کے بھنور میں گرفتار بے حس لوگ اپنی اپنی خواہشات کی تکمیل میں آپس میں دست و گریبان ہیں۔

لاہور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ وطن عزیز پاکستان کیخلاف استعماری قوتیں آج بھی سازشوں میں مصروف ہیں اور ان کا ہدف عالم اسلام کے واحد ایٹمی ملک کو اس کے ایٹم بم سے محروم کرنا ہے اور بقول ان کے، ان کو ڈر ہے کہ ملک کے اندر معاشی اور سیاسی استحکام ان قوتوں کے ناپاک عزائم کی تکمیل کا سبب نہ بن جائے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ان سازشوں کو بھانپتے ہوئے تمام اسٹیک ہولڈرز کو باہم مل بیٹھ کر معاشی اور سیاسی عدم استحکام سے ملک کو نجات دلا کر ایک بار پھر ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں کیلئے سر جوڑنے ہوں گے اور اس نازک ملکی صورتحال کا ادراک کرتے ہوئے اپنی سیاست کا محور حقیقی معنوں میں پاکستان کے مفاد پر منتج کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں: چیئرمین ایم ڈبلیوایم علامہ راجہ ناصرعباس کی ذاکر اہل بیتؑ شہید نوید عاشق بی اے کے فرزندگان سے ملاقات اور اظہار تعزیت

انہوں نے ملک سے سود کے خاتمے کیلئے حکومت کے فوری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا جبکہ کرپشن، فحاشی، عریانی، مہنگائی کی خاتمے کیلئے بھی عملی اقدامات پر زور دیا، جبکہ عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ اپنے فرائض کی انجام دہی کیلئے متحد ہوکر ملک کو ان بحرانوں سے نکالنے کیلیے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تاکہ ملک کو جلد از جلد اس سنگین صورتحال سے نکالا جا سکے۔

صحافیوں سے گفتگو کے موقع پر شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی کے ہمراہ علامہ حافظ کاظم رضا نقوی، مرکزی سیکرٹری اطلاعات زاہد علی آخونزادہ، علامہ فیاض مطہری، علامہ اشتیاق کاظمی، قاسم علی قاسمی اور صغیر ورک سمیت دیگر علماء بھی موجود تھے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button