یوکرین میں امریکی لیبارٹریوں کی تحقیقات کا مطالبہ، چین کی حمایت
شیعیت نیوز: چین نے بھی روس کی اس درخواست کی حمایت کا اعلان کیا جس میں یوکرین میں امریکی لیبارٹریوں سے تحقیق کی بات کہی گئی تھی۔
اقوام متحدہ میں چین کے نائب مندوب گنگ شوانگ نے سلامتی کونسل کی نشست کے دوران کہا کہ بیجنگ، یوکرین میں امریکی جراثیمی لیبارٹریوں کی سرگرمیوں پر روس کے مطالبے کو قانونی سمجھتا ہے اور اس موضوع پر غور کرنے کا خواہاں ہے ۔
اس سے قبل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی نشست میں روس کی جانب سے اس سلسلے میں پیش کی جانے والی قرارداد کو امریکہ نے ویٹو کردیا تھا۔
یاد رہے کہ روس کی وزارت دفاع نے یوکرین میں امریکی بایو لیبارٹریوں کی موجودگی کا پردہ فاش کیا تھا اور اس کے دستاویزات بھی جاری کر دیئے تھے۔ ان دستاویزات سے معلوم ہوا کہ امریکہ نے نائیجیریا میں بھی کم سے کم چار جراثیمی لیب قائم کر رکھی ہیں ۔ روس کی وزارت دفاع کے مطابق، منکی پاکس کا وائرس بھی نائیجیریا میں واقع امریکی جراثیمی لیباریٹریوں سے پھیلا ہے۔
ماسکو نے عالمی ادارہ صحت سے درخواست کی تھی کہ نائیجیریا میں موجود امریکی مالی حمایت حاصل کرنے والے طبی اور بایو مراکز کی سرگرمیوں کی جانچ پڑتال کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل کے عام انتخابات میں انتہا پسند نیتن یاہو کے اتحاد کی کامیابی
دوسری جانب چین نے آسٹریلیا میں امریکی بی باون بمبار طیاروں کی تعیناتی کو امن کے منافی اور سرد جنگ جاری رکھنے کا اقدام قرار دیا ہے۔
امریکہ نے شمالی آسٹریلیا میں ایٹمی ہتھیار حمل کرنے کی صلاحیت کے حامل اپنے بی باون جنگی طیارون کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ شمالی آسٹریلیا کے شہر ڈاروین کے جنوب میں ٹینڈال ایربیس میں اس مقصد سے خصوصی تنصیبات قائم کی جا رہی ہے۔
چین کے دفتر خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے امریکہ کے اس فیصلے پر کہا ہے کہ دو ملکوں کے دفاع و سیکورٹی کے بہانے کسی تیسرے ملک کو نشانہ نہیں بنایا جا نا چاہئے۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ اس قسم کے رویے سے علاقے میں کشیدگی پھیل رہی ہےاور علاقائی امن و استحکام متاثر ہو رہا ہے جس کے نتیجے میں علاقے میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔
چین کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ امریکہ کو اشتعال انگیز اقدامات اور علاقے میں کشیدگی پھیلانے کے بجائے امن و استحکام کی راہ میں قدم آگے بڑھانا اور مختلف ملکوں کے درمیان اپنا اعتماد بحال کرنا چاہئے۔







