امام زادہ حضرت عبداللہ شاہ غازی ؑ کے مزار پر عزاداری اور اسیروں کی رہائی،شیعہ علماء کا اہم بیٹھک

30 ستمبر, 2022 16:27

شیعیت نیوز: ۳؍ربیع الاول ۱۴۴۴ہجری بمطابق ۳۰؍ ستمبر ۲۰۲۲ کو کراچی میں مکتب تشیع کے علما کا نمائندہ اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں شہر کراچی کے جید علما، مدرسین اور مدارس کے مہتمم حضرات سمیت قومیات سے تعلق رکھنے والےعلما نے شرکت کی۔

اس اہم اجلاس میں عزاداری خصوصاً چہلم امام حسین علیہ السلام کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور عزاداری کی راہ میں رکاوٹوں اور ان کے اسباب و سد باب پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ ساتھ ہی اندرونی ضعف اور خامیوں کو دور کرنے اور ملت تشیع کے عزت و وقار کو محفوظ رکھنے کی بھی تاکید کی گئی۔

اجلاس میں نواسہ رسول (ص) حضرت امام حسن علیہ السلام کی نسل سے تعلق رکھنے والے عظیم ولی اور امام زادے سید عبد اللہ شاہ غازی ؒ کے مرقد منور و مزار پر خواتین کی عزاداری کے خلاف ایک فسادی و فتنہ پرور ٹولے کے شر پسندوں کی اشتعال انگیر نعرہ بازی کر کے اسے روکنے کی شدید مذمت کی گئی کہ جس کی فوٹیج موجود ہیں۔ ساتھ ہی عزاداروں پر لاٹھی چارج اور عزاداروں کی بلا جواز گرفتاری اور ایف آئی آر کی بھی مذمت کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: امام زادہ حضرت عبداللہ شاہ غازی ؑ کے مزار پر عزاداری اور اسیروں کی رہائی،شیعہ علماء کا اہم بیٹھک

اس سلسلے میں علامہ سید ناظر عباس تقوی صاحب اور علامہ صادق جعفری صاحب نے علما کو اب تک کی موجودہ تمام صورتحال کی بریفنگ دی۔ تمام علما نے مزار پر ایک فتنہ انگیز ٹولے کے دباؤ میں عزاداری کے خلاف سرکاری نوٹیفکشن کی بھی مذمت کی۔ اس سلسلے میں علما کو بتایا گیا کہ گرفتار بے گناہ نوجوانوں کی رہائی کیلئے انتظامیہ سے رابطے جاری ہیں اور گفتگو اور قانونی راستے سے اسے جلد حل کیا جائے گا۔ اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اوقاف کو یہ بات مد نظر رکھنی چاہئے کہ اولیائے کرام کے مزارات تمام مسلمانوں کا اثاثہ ہیں اور اس میں بلا تفریق تمام مسلمانوں کو مذہبی آزادی کے ملکی قانون کے مطابق زیارت و مذہبی رسومات کی ادائیگی کی آزادی حاصل ہونی چاہئے۔

علما نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ملک عزیز خدا داد پاکستان ایک سیاسی و معاشی بحران سے گزر رہا ہے اور اس دوران ملک دشمن عناصر خصوصاً عالمی استکبار ایام عزا کے اختتام اور ایام میلاد کے آغاز پر فرقہ وارانہ مسائل کو ہوا دے کر ملک کی نظریاتی بنیادوں کو کھوکھلا کرنا چاہتا ہے۔ تمام علما نے ۸ ربیع الاول کو ایام عزا کے آخری جلوس کی حساسیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اس بات پر بھی زور دیا کہ ہمیں سازشی عناصر اور ان کی چالوں کو مد نظر رکھنا چاہئے اور کسی بھی حساس موقع پر فوراً علما سے رابطہ کیا جائے تا کہ ایام عزا کے بعد اتحاد کی فضا کو قائم رکھا جا سکے۔

اجلاس میں قومی شیعہ جماعتوں سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ وہ ماہ ربیع الاول میں مذہبی مسالک کی باھمی ھم آھنگی کیلئے ملی یکجہتی کونسل کا اجلاس بلائیں۔

یہ بھی پڑھیں: عوامی ضروریات کو پورا کئے بغیر جنگ بندی کی مدت میں توسیع طبی موت ہے، ہشام شرف

اجلا س کے آخر میں افغانستان میں تعلیمی ادارے میں ہونے والی حالیہ دہشت گردی کے نتیجے میں بے گناہ افراد کی شہادت پر اظہار افسوس کرتے ہوئے دہشت گردوں کی گرفتاری کے مطالبے کے ساتھ شہدا کیلئے فاتحہ خوانی بھی کی گئی ۔اجلاس کے آخر میں علامہ ناظر تقوی نے اجتماعی دعا کرائی۔

اجلاس میں شیخ الاساتید حضرت حجۃ الاسلام شیخ صلاح الدین ، علامہ سید حیدر عباس عابدی، علامہ سید ناظر تقوی، علامہ سید احمد اقبال رضوی، مولانا عقیل موسیٰ، مولانا محمد حسین رئیسی، علامہ صادق جعفری، مولانا سید رضی حیدر زیدی، مولانا نعیم الحسن، مولانا نقی ہاشمی، مولانا سجاد مہدوی اور مولانا سید صادق رضا تقوی نے شرکت کی۔

6:39 صبح مارچ 17, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔