خیبرپختونخوا بھر کے شیعہ علماء نے نصابی کتب سے حضرت ابوطالبؑ کی گستاخی پر مبنی مواد کا خاتمہ نہ ہونے پر ملک گیر احتجاج کی عندیہ دےیا
شیعیت نیوز: ملت جعفریہ خیبر پختونخوا کے نمائندہ اجتماع نے اسلامیات کی کتب میں نکاح خوان رسول اللہ حضرت ابو طالب علیہ اسلام کی شان میں گستاخی اور انکی تکفیر پر شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے اس گھناؤنے فعل کے مجرموں کو فوری گرفتار اور متنازعہ کتب ضبط کرنے کا مطالبہ کیا ہے ، اس سلسلے میں مدرسہ شہید عارف الحسینی میں گزشتہ روز اجتماع کے بعد علامہ سید جواد ہادی و دیگرنے پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ،اجتماع میں پشاور کے علاؤہ ایبٹ آباد ،ہری پور ، مانسہرہ ، ڈی آئی خان ، کوہاٹ ، ھنگو ،پاڑہ چنار ، اورکزئی ، نوشہرہ مردان اور دیگر اضلاع سے علماء کرام اور مختلف شیعہ تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی ۔
مقررین نے کہا کہ حضرت ابو طالب علیہ اسلام کی شان میں گستاخی پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مملکت خداد پاکستان میں اھلبیت اطھار ، امہات المومنین اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سمیت شعار اللہ کی شان میں گستاخیاں اور انکی تضحیک معمول کا عمل بن چکی ہیں سوشل میڈیا کے زریعے نماز ، روزہ اور حج عمرہ سمیت مقدس عبادات کا مذاق اڑایا جارہا ہے ، ہم یہ سمجھنے میں برحق ہیں کہ یہ سب کچھ نادانستہ طور پر نہیں ہو رہا بلکہ یہ مذموم کام ایک مکمل منصوبہ بندی کے تحت ہوریا ہے جسکے پیچھے ایک باقائدہ لابی ہے اور اس لابی کے پیچھے عالمی ہے ، ان گستاخیوں کا بنیادی مقصد انبیاءکرام خصوصا” خاتم النبین رحمت اللعالمین حضرت محمد مصطفی صل اللہ علیہ وآل وصلم کے تقدس کو (معاذ اللہ) نقصان پہنچانا ہے تاکہ مسلمانوں کی رسول اللہ کے ساتھ زھنی اور دلی وابستگی کو ختم کیا جاسکے ، اس مقصد تک رسائی کے لیئے اھلبیت اطہار ، امہات المؤمنین اور صحابہ کرام سمیت شعاراللہ کو نشانہ بنا کر مسلمانوں کی غیرت اور بیداری کو چیک کیا جاتا ہے ۔
یہ بھی پڑھیں: امامزادہ حضرت عبداللہ شاہ غازی حسنیؑ کے مزار پر گذشتہ شب اصل میں کیا ہوا؟؟
مقررین نے کہا کہ الحمداللہ مسلمانوں کے تمام طبقات بیدار اور غیور ہیں جو متحد ہوکر ان سازشوں کے خلاف کھڑے ہو چکے ہیں ،آج ہم اس اجتماع سے دوٹوک الفاظ میں یہ اعلان کرتے ہیں کہ مملکت خداد پاکستان میں اس طرح کی سازشوں کی کامیابی کے امکانات صفر ہیں ہم تمام مسالک کے مسلمان مل کر ان سازشوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑے ہوچکے ہیں ہم حکومت سے مطالبہ کرتے کہ اسلامیات جماعت چہارم کی کتب میں حضرت ابو طالب علیہ اسلام کی شان میں گستاخی کے مرتکب افراد کو گرفتار کرکے اسکے خلاف توھین مذھب کے قانون کے تحت کاروائی کی جائے اور مذکورہ متنازعہ کتب کو فوری ضبط کیا جائے بصورت دیگر ملک بھر میں احتجاج کی کال دی جائے گی جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی ،اس مرحلے پر ہمارا بنیادی مطالبہ ہے کہ تمام نصابی کمیٹیوں میں ملت جعفریہ کو نمائندگی دی جائے تاکہ آئیندہ کے لئےاختلافی مسائل سے بچ سکیں۔سرکاری سطح پہ لازمی شیعہ نمائیندگی ہونی چاہئے۔قومی سطح پر اعلی وماہرین کی جائزہ کمیٹی ہونی چاہئے۔







