امریکہ۔ایران جنگ: روحانی بیداری اور طاقت کے توازن میں بڑی تبدیلی، علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا تجزیہ
شیعیت نیوز: گزشتہ روز معروف مذہبی و علمی شخصیت مولانا سید ثاقب حسین شیرازی نے ایک نجی ملاقات کے دوران علامہ راجہ ناصر عباس جعفری سے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔
ذرائع کے مطابق یہ نشست رات گئے تک جاری رہی جس میں مختلف علمی، فکری اور سیاسی موضوعات زیرِ بحث آئے۔ اس دوران امریکہ۔ایران جنگ کے اثرات کے حوالے سے ایک اہم سوال پر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے نہایت جامع تجزیہ پیش کیا۔
انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے اثرات کو دو بنیادی زاویوں سے سمجھنا ضروری ہے، جن میں معنوی و روحانی اثرات اور مادی و سیاسی اثرات شامل ہیں۔
معنوی پہلو پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واقعہ کربلا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امام حسین کی قربانی ایک ایسا آفاقی پیغام بن چکی ہے جو صدیوں بعد بھی انسانیت کو متاثر کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح حالیہ جنگ میں دی جانے والی قربانیاں بھی معاشرے میں ایک نئی روحانی بیداری پیدا کر رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایرانی فوج کا 31واں اعلان، اسرائیلی سائبر و دفاعی مراکز نشانے پر
انہوں نے مزید کہا کہ ان حالات کے نتیجے میں ایران کے اندر قومی وحدت اور استحکام میں اضافہ ہوا ہے اور عوام نے اپنی قیادت کے ساتھ مضبوط یکجہتی کا مظاہرہ کیا ہے۔
مادی و سیاسی اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس جنگ نے خطے میں طاقت کے توازن کو ایک نئے رخ پر ڈال دیا ہے۔ ان کے مطابق ایران ایک مضبوط علاقائی قوت کے طور پر اب پہلے سے زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے بعد یہ بات مزید واضح ہو گئی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کے کسی بھی بڑے مسئلے کا حل ایران کو نظر انداز کر کے ممکن نہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اس امر کی نشاندہی بھی کی کہ عالمی اور علاقائی قوتوں کے کئی اندازے اس جنگ کے بعد غلط ثابت ہوئے ہیں۔
علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کے مطابق یہ جنگ صرف ایک عسکری تصادم نہیں بلکہ اس نے خطے کی سیاسی حقیقتوں، طاقت کے توازن اور امتِ مسلمہ کی مجموعی صورتحال کو بھی ایک نئے زاویے سے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے۔







