دنیا

روس اور یوکرین کے درمیان جنگی قیدیوں کا تبادلہ

شیعیت نیوز: روس اور یوکرین کے درمیان گزشتہ 7ماہ سے جاری جنگ کے دوران گرفتار ہونے والے 300 کے قریب جنگی قیدیوں کا تبادلہ ہوگیا ہے۔

ایک معاہدہ کے تحت دونوں ممالک کی طرف سے قیدیوں کو رہا کیا گیا۔ جنگ کے دوران روس کی طرف سے قید کئے گئے 215 قیدیوں کو یوکرین کے حوالے کیا گیا جبکہ یوکرین نے 55 روسی قیدیوں کو آزاد کیا۔

روس کی طرف سے رہا کئےجانے والوں میں امریکہ ، برطانیہ اور مراکش سے تعلق رکھنے والے جنگی قیدیوں میں شامل ہیں جن میں بعض کو سزائے موت بھی دی جاچکی تھی، دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے فوجیوں پر یوکرین میں جاری فوجی سرگرمیوں میں شامل ہونے کا الزام ہے۔

یوکرین کی طرف سے رہا کئے گئے قیدیوں میں ماسکو کے حمایت یافتہ یوکرینی باشندوں سمیت بغاوت کے الزام میں گرفتار رہنما بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : واشنگٹن کو شام کے قومی وسائل کی لوٹ مار بند کردینی چاہیے، چین

دونوں ممالک کی طرف سے قیدیوں کی رہائی میں سعودی عرب اور ترکیہ نے کلیدی کردار ادا کیا، اس حوالے سے کی جانے والی کوششوں پر یوکرینی صدر زیلینسکی نے دونوں ممالک کا شکریہ ادا کیا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر روسی وزیر خارجہ اور آئی اے ای اے کے سربراہ نے ملاقات اور گفتگو کی ہے۔

ارنا کی رپورٹ کے مطابق، روس کے وزیر خارجہ نے ایٹمی توانائی کی عالمی ایجنسی کے سربراہ رافائل گروسی سے ملاقات کے دوران یوکرین کے ایٹمی بجلی گھروں من جملہ زاپوریژیا کی سیکیورٹی کی صورتحال پر گفتگو کی ہے۔

سرگئی لاوروف نے اس موقع پر کہا کہ روس زاپوریژیا ایٹمی پاورپلانٹ کے اطراف میں کیف کی گولہ باری کو روکنے کے لئے آئی اے ای اے کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کے لئے تیار ہے۔

واضح رہے کہ زاپوریژیا کو یورپ کا سب سے بڑا ایٹمی بجلی گھر قرار دیا جاتا ہے کہ جس کو روس نے اپنے کنٹرول میں لے رکھا ہے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button