القدس کے عوام کو اپنے تعلیمی نصاب کا انتخاب کرنے کا حق ہے، الشیخ عکرمہ صبری
شیعیت نیوز: مقبوضہ بیت المقدس میں سپریم اسلامی کونسل کے سربراہ اور مسجد اقصیٰ کے مبلغ الشیخ عکرمہ صبری نے کہا ہے کہ بیت المقدس میں طلباء کے والدین کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ایسے تعلیمی نصاب کا انتخاب کریں جو ان کے عقیدے، مذہب، رسم و رواج اور روایات سے ہم آہنگ، بین الاقوامی قوانین اور آسمانی قوانین سے منظور شدہ ہو۔
الشیخ عکرمہ صبری نے ایک ریڈیو انٹرویو میں کہاکہ ہڑتال طلباء اور ان کے والدین کی طرف سے اسرائیلی نصاب کو مسترد کرنے اور فلسطینی نصاب پر عمل پیرا ہونے کا اعلان کرنے کے لیے استعمال کیا جانے والا طریقہ تھا۔
صبری نے فلسطینی اور عرب اداروں اور میڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ القدس میں والدین اور طلباء کے موقف کی حمایت کریں۔
آج مقبوضہ بیت المقدس کے سکولوں میں ایک جامع ہڑتال رہی۔ یہ ہڑتال اسرائیلی نصاب کو مسلط کرنے کے قابض ریاست کی کوششوں کو مسترد کرنے اور من گھڑت مواد کوشامل تعلیمی نصاب کرنے کے خلاف احتجاج ہے۔
اتوار کو ایک مشترکہ بیان میں، قومی اور اسلامی قوتوں نے القدس کے تمام اسکولوں میں ہڑتال کی کال دی تمام فلسطینی اسکولوں کی انتظامیہ سے کہا گیا تھا کہ وہ ہڑتال کامیاب بنانے کے لیے ہڑتال میں حصہ لیں۔اور ہر ایک سے اس کی پابندی کرنے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں : نابلس میں عباس ملیشیا کی فائرنگ سے فلسطینی شہری فراس یاش شہید
دوسری جانب پیر کو فلسطینی اسیران امور کے کمیشن کے مطابق اسرائیل کی بدنام زمانہ جیل ایشل میں قید تنہائی میں ڈالے گئے فلسطینی ایھم کممجی جیلروں کے ظالمانہ سلوک کی وجہ سے تشویشناک حالت میں ہیں اور ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔
فلسطینی اسیران کمیشن نے بتایا کہ قید تنہائی میں ڈالے گئے کممجی کو سر میں درد اور بائیں آنکھ کی تکلیف ہے۔ درد ان کی دائیں آنکھ میں منتقل ہونا شروع ہو گیا ہے اور وہ ہائی بلڈ پریشر، مسلسل چکر آنے اور کندھے میں درد کی شکایت بھی کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ الجلمہ ٹارچرسیل میں کممجی کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ قابض دشمن کی جیلوں کی انتظامیہ ان کے صحت کے بہت سے مسائل کے لیے ضروری علاج فراہم کرنے میں تاخیر کر رہی ہےاور اسے درد کش ادویات دینے تک محدود ہے۔
فلسطینی اسیران کمیشن بتایا کہ ایھم کممجی تقریباً ایک ماہ قبل اس طرح بیدار ہوئے جیسے وہ چند سیکنڈ کے لیے اپنی یادداشت کھو چکے ہوں۔ نماز کے دوران ان کے ساتھ یہی صورتحال دہرائی گئی اور وہ نہیں جانتے تھے کہ وہ نماز کے دوران کیا کریں گے۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ کممجی ایشل جیل میں قید تتنہائی میں ہیں جہاں انہیں سخت ترین حالات کا سامنا ہے۔
قابض فوج نے ایھم کممجی کو 2006ء کو حراست میں لیا تھا۔ انہیں فریڈم ٹنل میں ایک مزاحمتی کارروائی کے الزام میں عمر قید اور 5 ہزار شیکل جرمانہ کی سزا سنائی گئی تھی۔







