نابلس میں عباس ملیشیا کی فائرنگ سے فلسطینی شہری فراس یاش شہید
شیعیت نیوز: فلسطینی اتھارٹی کی سکیورٹی سروسز کی طرف سے گولی لگنے سےایک فلسطینی شہری فراس یاش کی موت واقع ہوگئی۔ یہ واقعہ شمالی مقبوضہ مغربی کنارے کے نابلس کے مرکز میں گرفتاری کے خلاف احتجاج کے دوران پیش آیا۔
عباس ملیشیا نے فلسطینی شہریوں عمید طبیلہ اور مصعب اشتیہ کو حراست میں لیا جس کے خلاف شہری احتجاج کرتے ہوئے سڑکوں پر نکل آئے۔
عباس ملیشیا نے فلسطینی شہریوں کو منتشر کرنے کے لیے ان پر براہ راست گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں ایک شہری شہید اور کئی زخمی ہوگئے۔
نابلس کے مقامی ذرائع نے نابلس میں مظاہرین کے خلاف پی اے سکیورٹی کریک ڈاؤن کے دوران سر میں گولی لگنے سے فراس یاش کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے، وہ شہید امجد یاش کے بھائی ہیں۔
عرین الاسود گروپ نے شہید فراس کے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ایک بیان میں کہا کہ ہم فراس کی موت پر شکستہ دل ہیں۔
دوسری طرف فلسطینی سیاسی حلقوں نے شہری کو دوران احتجاج گولی مار کر شہید کرنے کے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عباس ملیشیا کی غنڈہ گردی قرار دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : قابض اسرائیل کومسجد اقصیٰ کا تقدس پامال نہیں کرنے دیں گے، محمد حمادہ
دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کی نام نہاد سکیورٹی فورسز نے کل سوموار کے روز اشتہاری قرار دیے گئے دو فلسطینی شہریوں مصعب اشتیہ اور عمید طبیلہ کو حراست میں لے لیا۔
ان کی گرفتاری کے لیے عباس ملیشیا نے ایک چھاپہ مار کارروائی کی جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ نابلس میں جب النار کے مقام سے کی جانے والی اس گرفتاری کے بعد فلسطینی عوام میں شدید غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔
عباس ملیشیا نےگرفتار فلسطینی مزاحمت کاروں مصعب اشتیہ اورعمید طبیلا کو شمالی مقبوضہ مغربی کنارے کے نابلس سے گرفتار کیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق سویلین کپڑوں میں ملبوس ایک سکیورٹی فورس نے نابلس کے الرودہ کالج کے قریب کھڑی ایک کار کو گھیرے میں لے لیا، جس میں اشتیہ سفر کر رہے تھے طبیلہ بھی ان کے ہمراہ تھے۔انہیں گرفتار کر کے اپنے ایک ہیڈ کوارٹر میں منتقل کر دیا گیا۔
ایک مختصر بیان میں مجاہد مصعب اشتیہ کے اہل خانہ نے کہا ہے کہ "ہم اپنے بیٹے مصعب کے اغوا کی خبروں کی تصدیق کرتے ہیں اور وہ جو جھوٹی خبریں پھیلا رہا ہے وہ درست نہیں ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ مصعب کو اغوا کیا گیا ہے۔
مصعب اشتیہ ایک سابق اسیر ہیں جو اسرائیلی زندانوں میں قید کاٹ چکے ہیں۔ حال ہی میں قابض فوج نے ان کا پیچھا کرنا شروع کیا اور انہیں متعدد بار گرفتار کرنے یا قاتلانہ حملے کا نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔
مقامی ذرائع کے مطابق سکورٹی فورس نے ایک گاڑی کو روکا جس میں اشتیہ جا رہے تھے، جس کے بعد انہیں سکیورٹی ہیڈ کواٹرلے جایا گیا ہے۔







