انٹونیو گوتریس کا افغانستان میں لڑکیوں کے اسکول کھولے جانے کا مطالبہ
شیعیت نیوز: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس نے افغانستان میں لڑکیوں کے اسکول کھولے جانے پر زو ر دیا ہے۔
افغانستان میں لڑکیوں کے اسکولوں کی بندش کو ایک سال مکمل ہونے پر اپنے ایک ٹوئٹ میں سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس نے لکھا ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم کا ایک سال ضائع ہوگیا ہے جس کا ازالہ ممکن نہیں ہے۔
انہوں نے افغانستان کی طالبان انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ لڑکیوں کی تعلیم کا سلسلہ دوبارہ شروع کریں اور ان کی اسکول واپسی کا بندوبست کیا جائے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کا کہنا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم سے محروم کرنا ان کے بنیادی حقوق کی خلاف وزی اور افغانستان کے مستقبل کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندہ دفتر کے سربراہ مارکس پوٹزل نے بھی اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ لڑکیوں کو تعلیم سے دور رکھنےکی کوئی قابل قبول وجہ پیش نہیں کی جاسکتی۔
انہوں نے کہا کہ ایک سال گزرنے کے باوجود طالبان نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے حالات فراہم کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا ہے جس کی وجہ سے لاکھوں بچیاں تعلیم سے محروم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : شام میں نصرہ فرنٹ کے ٹھکانوں پر روس کا بڑا حملہ
دوسری جانب اقوام متحدہ میں افغانستان کے ناظم الامور نصیر احمد فائق نے لڑکیوں کی تعلیم سے محرومی کو ملک کے مستقبل کے ساتھ خیانت قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں افغانستان کے ناظم الامور نصیر احمد فائق نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ افغانستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جہان لڑکیوں پر تعلیم کے دروازے بند کردیئے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کو غربت سے نجات پانے اور ترقی کے لیے جہاں انسانی امداد کی ضرورت ہے وہیں تعلیم یافتہ افراد ی قوت بھی چاہیے۔
اقوام متحدہ میں افغانستان کے ناظم الامور نے یہ بات زور دے کر کہی کہ لڑکیوں کو تعلیم سے محروم رکھنا ملک کے ساتھ ظلم اور قوم سے غداری ہے۔
اس سے پہلے افغانستان میں اقوام متحدہ کے نمائندہ دفتر کے سربراہ مارکس پوٹزل نے بھی اتوار کے روز اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ لڑکیوں کو تعلیم سے دور رکھنےکی کوئی قابل قبول وجہ پیش نہیں کی جاسکتی ۔
انہوں نے کہا کہ ایک سال گزرنے کے باوجود طالبان نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے حالات فراہم کرنے کا وعدہ پورا نہیں کیا جس کی وجہ سے لاکھوں بچیاں تعلیم سے محروم ہیں







