نیویارک میں یائر لپیڈ اور جو بائیڈن کی دو طرفہ ملاقات کے لیے تل ابیب کی کوششیں ناکام

19 ستمبر, 2022 11:09

شیعیت نیوز: اسرائیلی اخبار ہایوم نے لکھا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کا نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر اسرائیلی وزیراعظم یائر لپیڈ سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔

عبرنی ذرائع کے مطابق صیہونی حکومت کے وزیر اعظم یائر لپیڈ کے دفتر نے اس ملاقات کا بندوبست کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی تھی تاہم اس مرحلے پر فریقین کے مصروفیات کی وجہ سے ایسی کسی ملاقات کا انعقاد ممکن نہیں تھا۔

در ایں اثنا یائر لپیڈ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے کل پیر کو نیویارک روانہ ہوں گے۔

صیہونی ذرائع نے پیش گوئی کی ہے کہ وہ ممکنہ طور پر اسرائیل کے سابق وزرائے اعظم کی طرح آئندہ جمعرات کو اقوام متحدہ میں اپنی تقریر میں ایران کے مسئلے پر توجہ مرکوز رکھیں گے۔

صہیونی حلقوں کے اندازوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ لپیڈ اپنی تقریر میں دنیا کے ممالک کو ایران سے نمٹنے کے لیے متبادل حکمت عملی اختیار کرنے کی دعوت دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکہ کی وجہ سے دنیا ایٹمی جنگ کے دھانے پر پہنچ گئی، صدر بیلاروس

دوسری جانب صہیونی رائے عامہ کے ایک نئے جائزے سے ظاہر ہوا ہے کہ ایک تہائی صہیونیوں کو یقین ہے کہ اسرائیلی فوج کئی محاذوں پر ہمہ گیر جنگ لڑنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

سکیورٹی صہیونی تحریک کی طرف سے کرائے گئے ایک سروے میں صیہونی آمادگی کی حد میں فرق ظاہر کیا گیا ہے کہ وہ ایک یا تمام محاذوں پر ایک ساتھ جنگ کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے۔

سروے کے نتائج کے مطابق 32 فیصد صہیونیوں کا خیال ہے کہ ان کی فوج متعدد محاذوں پر جامع جنگ کے لیے مناسب طور پر تیار نہیں ہے، جب کہ اس کے برعکس 50 فیصد کا خیال ہے کہ فوج کی تیاری بہت زیادہ ہے۔

مغربی کنارے میں فائر کھولنے کے اقدامات کے حوالے سے 72 فیصد اسرائیلیوں کا خیال تھا کہ فوجیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالے بغیر فوج کو زیادہ تیزی سے فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کے لیے طریقہ کار کو تبدیل کیا جانا چاہیے۔

یہ ’’جلمہ‘‘ آپریشن کے تناظر میں سامنے آیا ہے جو گذشتہ بدھ کی صبح سویرے جنین کے قریب ہوا تھا، جس میں ایک اسرائیلی افسر مارا گیا تھا، جس نے فلسطینیوں پر گولی چلانے کے اقدامات کے خلاف اسرائیلی رائے عامہ کو مشتعل کیا تھا۔

11:51 شام مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top