ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کے امریکی دعوے پر ماسکو کا ردعمل
شیعیت نیوز: روسی ایوان صدر کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے امریکی صدر کے اس دعوے پر ردعمل ظاہر کیا ہے کہ جس میں جو بائیڈن نے دعوی کیا تھا کہ روس ممکنہ طور پر یوکرین میں ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار استعمال کرسکتا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے روس کی جانب سے ممکنہ ایٹمی حملے کے بائیڈن کے دعوے پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔
دمیتری پیسکوف نے امریکی صدر کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ماسکو اپنی قومی سلامتی کے اصولوں کے عین مطابق ہی ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیار استعمال کرے گا۔
کریملن کے ترجمان نے امریکی صدر کو مخاطب کرکے کہا کہ ہر چیز کے بارے میں روس کی اسٹریٹیجک پالیسی میں بتایا جا چکا ہے اور آپ جا کر اسے پڑھ لیں۔
جو بائیڈن نے اپنے حالیہ انٹرویو میں دعوی کیا تھا کہ اگر روس نے ٹیکٹیکل ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو یوکرین کی جنگ کا منظر اس طرح بدلے گا کہ جس کا مشاہدہ دوسری جنگ عظیم کے بعد کبھی نہ کیا گیا ہو۔
امریکی سائنسدانوں کے فیڈریشن نے دعوی کیا ہے کہ روس کے پاس پانچ ہزار نو سو ستتّر ایٹمی وار ہیڈ موجود ہیں ۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی ولی عہد بن سلمان کے دورے کے خلاف لندن میں مظاہرہ
دوسری جانب روس نے امریکہ کی جانب سے یوکرین کو دور مار میزائلوں کی فراہمی کو اپنی ریڈ لائن قرار دیتے ہوئے سخت خبردار کیا ہے۔
ماسکو میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخا رووا نے امریکہ کو خبردار کیا کہ اگر اس نے ہماری ریڈلائن عبور کی تو اسے روس کے خلاف براہ راست جنگ تصور کیا جائے گا۔
ماریا زاخا رووا نے بڑے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر یوکرین نے امریکہ کے فراہم کردہ میزائل روس کے خلاف استعمال کیے تو ماسکو، اپنی سرزمین کے دفاع کا حق پوری طرح محفوظ رکھتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ نے یوکرین کو ہماریس سسٹم کے ذریعے چلائے جانے والے جی ایم ایل آرایس میزائل دینے کااعلان کیا ہے۔ یہ میزائل اسی کلومیٹر کے فاصلے تک اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
امریکی حکام کا دعوی ہے کہ یوکرین نے مذکورہ میزائلوں کو روس کے خلاف استعمال نہ کرنے کی یقین دھانی کرائی ہے۔ یہ دعوی ایسے وقت میں کیا جارہا ہے جب روس کا کہنا ہے کہ یوکرین نے نو اگست کو ساکی کے علاقے میں واقع اس کے ایئربیس کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔







