عزاداروں پر غیر آئینی ایف آئی آرز، وزارت انسانی حقوق کی ایم ڈبلیوایم کی شکایت پرصوبائی چیف سیکریٹریز سے جواب طلبی

25 اگست, 2022 10:41

شیعیت نیوز: وزارت انسانی حقوق حکومت پاکستان نے کے پی کے اور پنجاب کے چیف سیکرٹریز کو خط لکھ کر محرم الحرام 2022 میں عبادت کے جرم میں عزاداروں کے خلاف وسیع پیمانے پر ایف آئی آرز کے اندراج پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔ انسانی حقوق کی وفاقی وزارت نے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما اور عزاداری کونسل کے چیئرمین علامہ مقصود علی ڈومکی کے خط اور درجنوں ایف آئی آرز کا حوالہ دیتے ہوئے ان مقدمات کا ذکر کیا جو پنجاب اور کے پی کے میں شیعہ مسلمانوں کے خلاف مذہبی عبادت یعنی مجلس عزا اور عزاداری کے جرم میں درج ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: شیعہ علماء کونسل نے این اے 157 ملتان میں پیپلزپارٹی کی حمایت کا اعلان کردیا

وزارت انسانی حقوق نے اپنے خط میں کہا ہے کہ آئین پاکستان کی دفعہ 20 شہریوں کو مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی دیتا ہے۔ جبکہ آئین کی شق 25 پاکستان کے تمام شہریوں کے بنیادی حقوق کی پاسداری کا پابند کرتا ہے۔ وزارت انسانی حقوق نے سوسائٹی کے تمام اجزاء کے لئے ملکی اور بین الاقوامی معاہدوں اور قوانین کے مطابق مذہبی آزادی اور مذہبی حقوق کے تحفظ کی تاکید کرتے ہوئے مجالس عزا پر مقدمات کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی مفتی ومسلم ورلڈ لیگ کے جنرل سیکریٹری عبدالکریم العیسیٰ نے سلمان رشدی ملعون پر حملے کو غیر اسلامی قرار دے دیا

در ایں اثناء مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنما علامہ مقصود علی ڈومکی نے وزارت انسانی حقوق کی جانب سے اس مراسلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ عبادت کو جرم قرار دے کر ایف آئی آرز درج کرنا شرمناک عمل ہے جو آئین قانون اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ پنجاب اور کے پی کے کی حکومت اور انتظامیہ یہ مقدمات واپس لیتے ہوئے ان پولیس افسران کے خلاف کارروائی کرے جنہوں نے بے گناہ عزاداروں کے خلاف مقدمات درج کیے۔ انہوں نے کہا کہ فقط ضلع ہری پور میں عزاداروں کے خلاف 18 مقدمات درج کرکے ضلعی انتظامیہ نے شرمناک مثال قائم کی ہے۔

8:28 شام مارچ 9, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top