دنیا

غاصب ریاست میں ایران کے لئے جاسوسی کے الزام میں گرفتار اسرائیلی خاتون کی خودکشی

شیعیت نیوز: غاصب ریاست اسرائیل ایران سے ہراساں ہو کر اپنے ہی شہریوں پر شک کرنے لگی، اسرائیل مکڑے کے جالے سے زیادہ کمزور ہے۔

کھسیانی بلی کھمبا نوچے، غاصب ریاست اسرائیل  کو اب اپنے ہی شہریوں پر شک ہونے لگا۔ جعلی ریاست اسرائیل کی عدالت نے 2022ء میں ایران کےلئے جاسوسی کرنے کے الزام میں اپنی 4 خاتون شہریوں پر فردجرم عائد کی تھی۔

غاصب ریاست نے ان عورتوں پر سوشل میڈیا فیس بک اور واٹس ایپ کے ذریعے سے حساس اسرائیلی مقامات اور مراکز کی تصاویر بنا کر ایک ایرانی شخص کو بھیجنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

ملزمان اور ان کے خاندانوں پر بے پناہ دباؤ کی وجہ سے ان 4 عورتوں میں سے ایک نے اپنے گھر میں قید ہونے کے بعد خودکشی کی کوشش کی جسے بعد میں ہسپتال منتقل کر دیا گیا اور اس کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں : روس کے ساتھ امن مذاکرات کا مطلب ماسکو کی کامیابی کو تسلیم کرنا ہے، میخائیلو پودولیاک

دوسری جانب مقبوضہ بیت المقدس میں اسرائیل یمن ویزیٹر سنٹر کے نام سے ایک منصوبہ شروع کرنے والا ہے۔ یہ منصوبہ سلوان ضلع میں رو بعمل لانے کی تیاری ہے۔ تاکہ آس پاس کی زمین پر یہودی قبضہ ممکن ہو سکے۔ یہ انکشاف یروشلم کے امور کے ماہرین نے کی ہے۔

ماہرین کے مطابق اسرائیلی قابض اتھارٹی اور یہودی آباد کاروں کے ایک گروپ کا دعویٰ ہے کہ یمنی بستی بیت الہویٰ 19 ویں صدی  کے اواخر میں بنی تھی۔ مگر برطانیہ کے 1938 میں اسے خالی کرنے سے قبل درجنون فلسطینی خاندان اس میں منتقل ہو گئے تھے۔

یہودی آباد کاروں نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ  سلوان میں یمنی عبادت گاہ  کی موجودگی ان کی فلسطینیوں کو روکنے اور ان کے گھروں پر قبضے کی انتھک کوششوں کا ایک اہم حصہ تھی۔

2015 میں یہودی آباد کاروں نے ابو ناب فیملی کو یہودی آباد کاروں  نے اس علاقے سے جبری طور نکال دیا۔ یہودی آباد کاروں کے بقول یہ خاندان بیت  الہوٰی میں پرانی یمنی عبادت گاہ میں مقیم تھا اور اس نے اپنا گھر یہودی آباد کاروں کو دے دیا تھا۔

اس یہودی آباد کار گروپ نے حال ہی میں اسرائیلی وزیر ہاوسنگ کے ساتھ ایک معاہدہ کیا ہے کہ 4،5 ملین شیکلز کی لاگت سے ایک یمنی وزیٹر سنٹر اور اس سے ملحق ایک پولیس مانیترنگ سنٹر قائم کیا جائے۔

متعلقہ مضامین

Back to top button