جنوبی یمن میں سعودی و اماراتی ملیشیاؤں میں جھڑپیں

11 اگست, 2022 03:33

شیعیت نیوز: جنوبی یمن کے صوبے شبوہ میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے وابستہ ملیشیاؤں کے درمیان جھڑپوں کی خبریں ملی ہیں۔

العربی الجدید کی رپورٹ کے مطابق جنوبی یمن کے صوبے شبوہ میں اس ملک کی مستعفی حکومت سے وابستہ ملیشیاؤں اور جنوب کی عبوری کونسل سے وابستہ مسلح جتھوں کے درمیان جھڑپ میں دسیوں آلۂ کار مارے گئے ہیں تاہم ابھی جانی نقصان کے صحیح اعداد و شمار سامنے نہیں آسکے ہیں۔

دریں اثنا ایک فوجی ذریعے نے العربی الجدید کو جنوبی یمن میں ہونے والی اس جھڑپ کے بارے میں بتایا ہے کہ یمن کی مستعفی حکومت سے وابستہ ملیشیا نے شہر عتق سے انخلا اور اپنے کیمپوں میں واپس جانے کے لئے اپنے ٹھکانوں سے پسپائی اختیار کی تاہم متحدہ عرب امارات سے وابستہ ملیشیا نے پسپائی اختیار کرنے سے گریز کیا اور شہر کا کنٹرول حاصل کرنے کے لئے پیش قدمی شروع کر دی۔

یہ بھی پڑھیں : یمنی اپنی دولت کی لوٹ مار پر خاموش نہیں رہیں گے، سربراہ مہدی المشاط

ذرائع کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے وابستہ ملیشیا نے اسی طرح خصوصی سیکورٹی فورس کے معزول کمانڈر عبد ربہ العکب کا محاصرہ جاری رکھا اور النجدہ کیمپ پر بمباری کی جس کے بعد جنوبی یمن کے صوبے شبوہ میں اس ملک کی مستعفی حکومت سے وابستہ ملیشیا اور جنوب کی عبوری کونسل کی ملیشیا کے درمیان دوبارہ جھڑپ شروع ہو گئی۔

جنوبی یمن کے صوبے شبوہ میں جارح ممالک کے آلۂ کاروں کے درمیان جھڑپ کا یہ سلسلہ جنگ یمن کے آغاز سے ہی بحران کا باعث بنا رہا ہے جس کے نتیجے میں فریقین کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

مبصرین جھڑپوں کے اس سلسلے کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اقتدار کی جنگ قرار دیتے ہیں اس طرح سے کہ عبوری کونسل متحدہ عرب امارات کے زیر اثر ہے اور یمن کی مستعفی حکومت سعودی عرب کے زیر اثر ہے۔

دوسری جانب حکومت صنعا کے زیر کنٹرول علاقوں میں مکمل امن پایا جاتا ہے اور ان علاقوں کو صرف سعودی اتحاد کی جارحیت کا سامنا ہے اور ان علاقوں میں بم دھماکوں اور یا قتل و عارتگری کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا ہے۔

5:47 صبح مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top