ایران اور مزاحمتی بلاک کی فتح نے پوری امتِ مسلمہ کا وقار بحال کر دیا، عبدالملک الحوثی

09 اپریل, 2026 17:17

شیعیت نیوز : قائد انصار اللہ سید عبدالملک بدرالدین الحوثی (ح) کے خطاب کے اہم نکات

قائد انصار اللہ نے صیہونی دشمن کی ‘اتحاد محاذ’ (وحدت الساحات) کی مساوات ختم کرنے کی کوشش کو ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ لبنان پر مسلسل جارحیت پوری جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ مزاحمتی بلاک کا کوئی بھی محاذ لبنان اور وہاں کی اسلامی مزاحمت پر حملوں کے دوران خاموش تماشائی نہیں بنے گا؛ ہم دشمن کو کسی بھی محاذ بشمول فلسطین کو تنہا کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

یمنی محاذ پر ہم فلسطین کی حمایت میں براہ راست مداخلت کے لیے مکمل تیار ہیں۔ مسجد اقصیٰ کی 40 دن تک بندش ایک خطرناک اقدام تھا جس کے خلاف تحفظ ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ یمنی افواج کی عسکری کارروائیاں ایک منظم منصوبے کے تحت بڑھ رہی ہیں جو دشمن کے لیے مزید بڑے سرپرائزز اور تباہ کن اختیارات کی حامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ایران اور مزاحمتی بلاک کی فتح نے پوری امتِ مسلمہ کا وقار بحال کر دیا، عبدالملک الحوثی

ایران اور مزاحمتی بلاک کی فتح نے پوری امت مسلمہ کا وقار بحال کر دیا ہے اور دشمن کی ‘یک طرفہ جارحیت’ کی پالیسی کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا ہے۔

یمنی سیکیورٹی اداروں نے اس ہفتے دشمن کے لیے کام کرنے والے جاسوسی نیٹ ورک کو گرفتار کر کے ایک بڑی کامیابی حاصل کی ہے، جو دشمن کی ایک اور عبرتناک ناکامی ہے۔

جنگ بندی کا اعلان بذات خود ایران، مزاحمتی بلاک اور پوری امت مسلمہ کی ایک عظیم فتح ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل اپنے تمام تر فوجی و سیاسی وزن کے باوجود ناکام رہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران میں 12 ملین افراد نے رضاکارانہ طور پر کسی بھی زمینی جنگ کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے؛ ٹرمپ کے یہ دعوے مضحکہ خیز ہیں کہ ایرانی عوام نے ان سے سب کچھ تباہ کرنے کی التجا کی تھی۔

ایرانی حملوں کے نتیجے میں امریکی افسران اور سپاہی اپنی فوجی چھاؤنیاں چھوڑ کر ہوٹلوں اور خفیہ مقامات پر چھپنے پر مجبور ہوئے، جبکہ صیہونی 40 دن تک پناہ گاہوں میں محصور رہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش امریکہ اور اس کے حلیفوں کے خلاف ایران کا ایک انتہائی مؤثر اور بڑا اسٹریٹجک فیصلہ تھا۔

6:50 شام اپریل 9, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔