متحدہ عرب امارات ایران کے خلاف کسی گروہ بندی کا حصہ نہیں ہے، انور گرگاش
شیعیت نیوز: متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور گرگاش نے بھی سیاسی تناؤ کو کم کرنے کے لیے علاقائی اقتصادی تعاون پر زور دیا۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق متحدہ عرب امارات، ایران کے ساتھ تعلقات میں سردمہری کے باعث اب 6 سال بعد ایران میں سفیر بھیجنے پر غور کر رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : سعودی جارحین کی ہر چال کا مقابلہ کرنے کے لئے آمادہ ہیں، یمنی وزیر دفاع
انور گرگاش نے صحافیوں کے ساتھ ایک ویڈیو کال کے دوران کہا کہ اب ہم واقعی ایران میں سفیر بھیجنے پر غور کر رہے ہیں، اگلی دہائی گزشتہ دہائی کی طرح نہیں ہوسکتی، اس دہائی میں تناؤ میں کمی کی کوششوں کو کلیدی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔
انور گرگاش نے کہا کہ متحدہ عرب امارات ایران کے خلاف کسی گروہ بندی کا حصہ نہیں ہے، انہوں نے بڑے پیمانے پر سیاسی تناؤ ختم کرنے کے لیے مختلف شعبوں میں اقتصادی تعاون پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں : تمام عرب ممالک ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں، ایمن الصفدی
متحدہ عرب امارات اس سے قبل کہہ چکا ہے کہ عرب خلیجی ریاستوں کو ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے اجتماعی سفارت کاری میں حصہ لینا چاہیے، جس کے 2015 کے جوہری معاہدے پر مغربی طاقتوں کے ساتھ مذاکرات مارچ سے تعطل کا شکار ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے 2020 میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے جبکہ ایران نے اس اقدام کی مذمت کی تھی۔ اس کے باوجود گزشتہ سال جولائی میں متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم شیخ منصور بن زاید النہیان نے ایرانی ناظم الامور سید محمد حسینی سے ملاقات کی تھی تاکہ دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کے طریقوں پر غور کیا جا سکے۔







