جارح سعودی اتحاد کے ہاتھوں جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں
شیعیت نیوز: اب تک کی اطلاعات کے مطابق یمن اور جارح سعودی اتحاد کے مابین جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود، سعودی-اماراتی اتحاد کے یمن پر حملوں میں تین سو سے زائد افراد نشانہ بن چکے ہیں۔
یمن کی قومی نجات حکومت کی وزارت صحت کے جاری کئے گئے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جارح سعودی و اماراتی اتحاد جنگ بندی کے معاہدے کا پابند نہیں۔ دو اپریل سے تیس جون جنگ بندی کے پہلے دورانیے کے دوران سعودی اتحاد کی جارحیت کے نتیجے میں 387 یمنی شہری زخمی اور جاں بحق ہوچکے ہیں۔
یمن وزارت صحت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق جاں بحق اور زخمی ہونے والوں میں سے زیادہ تر یعنی 330 افراد کا تعلق صوبہ صعدہ (شمالی یمن) سے ہے۔ اس صوبے میں توپ خانے کی بمباری کے نتیجے میں 292 افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ سعودی سرحدی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں 32 افراد اور اس صوبے میں ماضی میں اتحادی افواج کے کلسٹر بموں کے اثرات کے نتیجے میں 6 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : مسلمان حکمرانوں اور عوام کو مشترکہ مفادات کے حصول کے لئے مغربی طاقتوں کی فکری غلامی سے نجات حاصل کرنا ہوگی، علامہ امین شہیدی
صوبہ الحدیدہ جانی نقصان اُٹھانے میں دوسرے نمبر پر ہے اور یہاں 20 افراد کے جاں بحق اور زخمی ہونے کی اطلاع ہے، اس صوبے میں بارودی سرنگ کے دھماکوں کے نتیجے میں 7 شہید اور زخمی، فضائی بمباری کے نتیجے میں 4 زخمی اور توپ خانے کی بمباری کے نتیجے میں 9 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
الجوف میں بھی توپ خانے کی بمباری اور بارودی سرنگ کے پھٹنے سے 14 شہری زخمی اور جاں بحق ہوئے ہیں، جبکہ صوبہ تعز میں متاثرہ افراد کی تعداد 7 ہے۔
یاد رہے کہ یمن میں جنگ بندی جو دو اپریل کو تنازعات اور سات سالہ محاصرے کے خاتمے کی امید سے شروع ہوئی تھی، جارح اتحاد کی جانب سے بار بار کی خلاف ورزیوں کے باعث دو جون کو دوبارہ دو ماہ کی مدت کے لیے بڑھا دی گئی ہے۔ اسی دوران صنعاء حکومت اور ریاض کی حمایت یافتہ فراری حکومت کے مابین اردن میں جنگ بندی کی شرائط کا جائزہ لینے اور تعز شہر کے راستوں کو دوبارہ کھولنے کے لیے مذاکرات کے دو دور منعقد ہوچکے ہیں۔







