عراقی وزیر اعظم کے دورہ سعودی اور ایران کا محور، تہران اور ریاض کے تعلقات ہیں

04 جولائی, 2022 02:51

شیعیت نیوز: عراق کے وزیر خارجہ فواد حسین نے سعودیہ نیوز چینل الحدث سے علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے عراقی وزیر اعظم مصطفیٰ الکاظمی کے دورہ سعودی عرب کے حوالے سے کہا کہ ان مذاکرات کا محور تہران اور ریاض کے تعلقات ہیں۔ الکاظمی نے اس دورے میں ایران سعودی مذاکرات کے لیے عراق کی حمایت پر زور دیاہے ۔

یمن کے مسئلے پر تہران اور ریاض کے مابین اختلافات پر گفت و شنید کرتے ہوئے عراقی وزیراعظم نے تہران اور ریاض کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو عام کرنے کی تجویز دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے یمن میں جنگ بندی کے بارے میں ایران کی سنجیدگی کو محسوس کیا ہے لہٰذا تہران اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات میں مرکزی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے بغداد کی میزبانی میں تہران، اردن اور مصر کے درمیان الگ الگ مشاورت کا بھی اعلان کیا۔

اپنی گفتگو کے تسلسل میں انہوں نے قاہرہ کے ساتھ تعلقات کی راہ ہموار وسیع کرنے کی تہران کی خواہش کا بھی تذکرہ کیا اور خلیج فارس تعاون کونسل کے رکن ممالک کے اجلاس میں بغداد کی شرکت کے بارے میں بھی آگاہ کیا جو اردن، مصر اور امریکی صدر جو بائیڈن کی موجودگی میں منعقد ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں : لیبیا، مشتعل مظاہرین نے پارلیمنٹ کی عمارت کے کچھ حصے کو آگ لگا دی

دوسری جانب عراقی حکومتی عہدیدار سے نقل کرتے ہوئے روسی میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ عراقی میزبانی سے ایران و سعودی عرب کے درمیان منعقد ہونے والی آئندہ کی مذاکراتی نشست میں دونوں ممالک کے سفارت کار شریک ہوں گے۔

روسی ٹیلیویژن چینل رشیاٹوڈے کے ساتھ گفتگو میں عراقی حکومتی عہدیدار کا کہنا تھا کہ بغداد میں تہران و ریاض کے درمیان منعقد ہونے والی گذشتہ 5 مذاکراتی نشستیں سکیورٹی و انٹیلیجنس کی سطح کی تھیں جبکہ آئندہ منعقد ہونے والی مذاکراتی نشست سفارتی نوعیت کی حامل ہو گی۔

روسی چینل نے اعلی سطحی عراقی حکومتی عہدیدار کے نام و مقام کی جانب اشارہ کئے بغیر اس سے نقل کرتے ہوئے دعوی کیا کہ اپنی نوعیت کی یہ مذاکراتی نشست مستقبل قریب میں منعقد ہو گی جس کے حوالے سے بغداد میں ایرانی و سعودی حکومت کے درمیان ایک ابتدائی معاہدہ بھی طے پا چکا ہے۔

9:05 صبح مارچ 12, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔