لیبیا، مشتعل مظاہرین نے پارلیمنٹ کی عمارت کے کچھ حصے کو آگ لگا دی

04 جولائی, 2022 02:26

شیعیت نیوز: لیبیا میں مشتعل مظاہرین مشرقی پارلیمنٹ کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوگئے اور توڑ پھوڑ کی جب کہ عمارت کے کچھ حصے کو آگ لگا دی گئی۔

موصولہ رپورٹ کے مطابق لیبیا میں مشتعل مظاہرین نے وزیراعظم ہونے کے دعویدار فتحی باشا آغا کے زیر استعمال مشرقی پارلیمنٹ پر دھاوا بول دیا تاہم حملے کے وقت عمارت مکمل طور پر خالی تھی۔

کئی ہفتوں سے مظاہرین خودساختہ حکومت کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کررہے تھے تاہم مطالبہ پورا نہ ہونے پر پارلیمنٹ کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوگئے اور تھوڑ پھوڑ کی۔ مشتعل ہجوم نے عمارت کے کچھ حصوں کو آگ بھی لگا دی۔

خیال رہے کہ اس وقت لیبیا میں دو حکومتیں ہیں ایک نگراں وزیراعظم عبدالحمید الدبیبه ہیں جو مغربی لیبیا کے شہر طرابلس میں مقیم ہیں۔ انہیں اقوام متحدہ نے تنازع کے حل اور نئے الیکشن کرانے تک نگراں وزیراعظم مقرر کیا تھا۔

دوسری طرف فتحی باشا آغا ہے جو مشرقی لیبیا میں مقیم ہیں اور اقوام متحدہ کے مقرر کردہ نگراں وزیراعظم کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے حکومت چھوڑنے سے انکار کردیا تھا اور طبرق شہر میں موجود پارلیمنٹ پر قابض ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :  بلتستان یونیورسٹی میں نئے وائس چانسلر کی تعیناتی کا معاملہ، صدر مملکت نے سمری مسترد کردی

دوسری جانب امریکہ اور مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو دیئے جانے والے ہلکے اور بھاری ہتھیار بلیک مارکیٹ میں فروخت کئے جارہے ہیں۔

رشاٹوڈے نیوز چینل نے رپورٹ دی ہے کہ یوکرین جنگ کے دوران مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو دیئے جانے والے مہلک ہتھیاروں کی بنا پر ہتھیاروں کی خرید و فروخت کی بلیک منڈی وجود میں آگئی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق یوکرینیوں نے اس غیرقانونی منڈی میں نہ صرف ہلکے ہتھیار بلکہ پیچیدہ قسم کے سافٹ ویئر منجملہ جولین اینٹی ٹینک سسٹم ، جدید نسل کے این ایل اے ڈبیلو اینٹی ٹینک سسٹم ، دھماکا کرنے والے فونیکس گوست ڈرون اور دیگر بہت سے فوجی ساز و سامان بھی پہنچا دیئےہیں۔

انٹرپول کے سربراہ یورگن اسٹاک، جون دوہزار بائیس میں بلیک منڈی میں مغرب کے جدید ترین ہتھیاروں کے پہنچنے کے سلسلے میں خبردار کرچکے ہیں۔

روس، مغربی ممالک کو یوکرین کومسلح کرنے ، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور مشرقی یوکرین میں روسی نژاد باشندوں پر یوکرینی فوجیوں کے حملوں کے بارے میں اب تک بارہا انتباہ دے چکا ہے۔

مغربی ممالک بالخصوص امریکہ، حالیہ برسوں میں یوکرین حکومت کی بڑے پیمانے پر مالی و فوجی مدد کرتا رہا ہے اور جنگ شروع ہونے کے بعد سے اپنے زرخرید جنگجو بھی بھیجنا شروع کردیے ہیں جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

 

4:03 شام مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top