اسرائیل کی سب سے بڑی فرنیچر فیکٹری جل کر راکھ

08 جون, 2022 14:58

شیعیت نیوز: شمالی اسرائیل میں آتشزدگی کے نتیجے میں فرنیچر فیکٹری جل کر راکھ ہوگئی۔

میڈیا رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے وادی العارہ سے فلسطینیوں کو جبری طور پر بے دخل کرنے کے بعد یہاں سب سے بڑی فرنیچر فیکٹری قائم کی تھی۔ کہا جا رہا ہے کہ آتشزدگی کے بعد علاقے میں دھوئیں کے گہرے بادل اٹھتے دکھائی دیئے اور فرنیچر فیکٹری کے اطراف کی آبادیوں کو خالی کرانا پڑا۔

صیہونی ذرائع ابلاغ، عام طور سے ایسی خبروں کو سینسر کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور حادثے کی وجوہات کے بارے میں کچھ بتانے سے گریز کیا جاتا ہے۔
اس سے پہلے حیفا میں آتشزدگی کے ایک بڑے واقعے میں بازان نامی آئل ریفائنری کا ایک حصہ جل کر راکھ ہوگیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : اقوام متحدہ کا لبنان اور اسرائیل سے کاریش گیس فیلڈ تنازعہ کو حل کرنے کا مطالبہ

دوسری جانب ارجنٹائن نے باضابطہ طور پر اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی ٹیم کے ساتھ 6 جون کو شیڈول دوستانہ فٹبال میچ منسوخ کر دیا گیا ہے۔

فلسطین میں اس فیصلے سے خوشی ہے اور ارجنٹائن کے اس قدم کو سراہا جا رہا ہے۔ فلسطین کی الخضر ٹیم نے گزشتہ اپریل میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینی کھلاڑی محمد غنیم کو شہید کرنے کے بعد اسرائیل کی بربریت کی مذمت کرتے ہوئے ارجنٹائن سے اسرائیلی ٹیم کے ساتھ میچ منسوخ کرنے کی اپیل کی تھی۔

اسرائیل نے اس شرمناک واقعے کے بعد کہنا شروع کر دیا ہے کہ ارجنٹائن نے مالی معاملات پر اختلافات کی وجہ سے میچ منسوخ کر دیا ہے۔ اسرائیل کے Sport-5 ٹی وی چینل نے کہا کہ مالی مسئلے پر دونوں ٹیموں کے درمیان اختلافات دور نہیں ہو سکے۔ اگرچہ فیفا نے اس معاملے میں مداخلت کی لیکن 5 ملین ڈالر کی رقم پر اختلاف تھا جو حل نہ ہو سکا۔ اس ٹی وی چینل نے فلسطینی بیان کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔

اسرائیل کے بائیکاٹ کے لیے سرگرم تنظیم بی ڈی ایس نے بھی ایک بیان جاری کیا کہ ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ مجرم اسرائیل کی ٹیم فرینڈلی میچ کھیلنے آئے کیونکہ اس طرح کے میچوں سے اسرائیل کو اپنی امیج بہتر کرنے کا موقع ملے گا اور وہ اسے برداشت نہیں کر سکتے اور اپنے آپ کو جرائم کی سزا سے بچانے کی کوشش کرے گا۔ اگر اسرائیل کو اس طرح کی چھوٹ ملتی رہی تو وہ پوری طرح سے کھل کر قاتلانہ حکمت عملی پر عمل پیرا رہے گا۔

فلسطین کی فٹبال ٹیم الخضر نے ارجنٹائن کی ٹیم کے عہدیداروں کو لکھے گئے خط میں کہا ہے کہ اسرائیل بے دردی سے کھلاڑیوں کی بھی جانیں لے رہا ہے، اس لیے اس کے خلاف تعزیری کارروائی ضروری ہے۔

فلسطینی فٹبال ٹیم نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ ہم ابھی محمد کے غم سے سنبھل نہیں پائے تھے کہ گزشتہ ہفتے مجرم اسرائیل نے ہمارے ایک اور فٹبال کھلاڑی سائر الیازوری کو قتل کر دیا جس کی عمر 18 سال تھی۔ یہ قتل اسی دن البیرہ شہر میں ہوا جس دن اسرائیل نے فلسطینی صحافی شیرین ابو عاقلہ کو قتل کیا تھا۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل منظم طریقے سے فلسطینیوں کو قتل کر رہا ہے اور درحقیقت اس نے نسل پرستی کا نظام نافذ کر رکھا ہے۔

ہم آپ سے اسرائیل کے ساتھ مجوزہ فٹبال میچ کو منسوخ کرنے کی درخواست کرتے ہیں۔

4:59 صبح مارچ 17, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔