تعطل کا شکار ایران جوہری مذاکرات دوبارہ شروع ہو گئے، جوزف بوریل
شیعیت نیوز: یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بوریل نے اینریک مورا کے دورہ ایران کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک معاہدے تک پہنچنے کا امکان ہے۔
یہ بات جوزف بوریل نے تہران سے یورپی یونین کے کوارڈینیٹر انریکہ مورا کی برسلز واپسی کے بعد کہی۔
انہوں نے بتایا کہ تعطل کا شکار ایران جوہری مذاکرات دوبارہ شروع ہو گئے۔
انہوں نے جرمنی میں جی 7 سربراہی اجلاس کے موقع پر کہا کہ مذاکرات معطل کر دیے گئے ہیں اور دوبارہ شروع ہوں گے اسی لیے ایک معاہدے تک پہنچنے کا امکان بھی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ جوہری معاہدے کی بحالی کے راستے میں موجود اختلافات کو راتوں رات” حل نہیں کیا جا سکتا۔
قابل ذکر ہے کہ اینریک مورا منگل کو تہران پہنچ گئے انہوں نے بدھ اور جمعرات کے دنوں میں اعلی ایرانی مذاکرات کار علی باقری کنی کے ساتھ کئی گھنٹے بات چیت کی اور مذاکرات کا ایک باخبر ذریعہ نے ارنا کو بتایا کہ مورا اور باقری بات چیت ایک مثبت ماحول میں ہوئی اور ایک اچھا عمل اور پیشرفت ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات تقریباً اپنے آخری مراحل میں پہنچ چکے ہیں۔
یہ دوسری بار ہے جو کہ مورا مذاکرات کے وقفے کے دوران تہران کا دورہ کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : ایران کا یوم نکبہ پر پوری امت مسلمہ سے فلسطینی مزاحمت کی حمایت کا مطالبہ
دوسری جانب ویانا مذاکرات کے یورپی کوآرڈینیٹر اینریک مورا کا کہنا ہے کہ تہران سے واپسی پر انھیں جرمنی کے فرینکفرٹ ایرپورٹ پر بلا سبب روک لیا گیا۔
ارنا کی رپورٹ کے مطابق، ویانا مذاکرات کے یورپی کوآرڈینیٹر انریکے مورا نے، جو ویانا مذاکرات کے بارے میں صلاح و مشورے کے لئے ایران کے دورے پر تہران آئے تھے، ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ برسلز واپس جاتے ہوئے جرمن پولیس نے انھیں ایرپورٹ پر بلا سبب روکا تھا۔ انھوں نے اس واقعے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک یورپی عہدیدار کی حیثیت سے اسپین کے ڈپلومیٹک پاسپورٹ کے ساتھ اپنے سرکاری مشن پر تھا کہ میرے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کیا گیا۔
انہوں نے اپنے ایک اور ٹوئٹ میں کہا کہ اب وہ اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ آزاد ہو چکے ہیں۔ مورا نے کہا کہ انہیں اور ان کے دو ساتھیوں کو بلا سبب روکا گیا، جس کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی گئی جبکہ اس طرح سے کسی سرکاری عہدیدار کو روکنا ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔







