یہودی آبادکاری کیلئے امریکہ سے اجازت کی ضرورت نہیں، اسرائیل

13 مئی, 2022 09:08

شیعیت نیوز: اسرائیلی وزیر خارجہ یائر لاپد نے کہا کہ تل ابیب کو مقبوضہ مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر کے لیے امریکہ سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

یروشلم پوسٹ کے مطابق یائر لاپد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایک خودمختار ریاست ہے اور وہ خطے میں تعمیرات کیلئے امریکہ سے اجازت لینے کا ذمہ دار نہیں۔

اسرائیلی وزیر خارجہ لاپد کا یہ بیان مغربی کنارے میں 3,988 غیر قانونی بستیوں کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے اسرائیل اور امریکہ کے درمیان تازہ ترین سفارتی تنازع کے دوران سامنے آیا ہے۔

اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا کہ جب بستیوں کی تعمیر کی بات آتی ہے تو ہم ہمیشہ امریکیوں کو آگاہ کرتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم واشنگٹن کی منظوری حاصل کرنے کیلئے ایسا کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ اسرائیل میں امریکی سفیر ٹام نائیڈز، وزیر خارجہ انتھونی بلنکن اور وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کہہ چکے ہیں کہ ایسی بستیوں کی تعمیرات سے تنازع کا دو ریاستی حل کے امکان کو نقصان پہنچتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : شہید ابو عاقلہ کی آخری رسومات کی ادائیگی، میت بیت المقدس منتقل

دوسری جانب غاصب صیہونی ریاست اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 4000 سے زائد بستیوں کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔

مغربی کنارے میں سینکڑوں فلسطینیوں کو بے دخلی کے خطرے کا سامنا ہے۔ صیہونی فوج کی جانب سے مکانات مسمار کرنے کے ایک دن بعد غیرقانونی آبادکاری کا مخالف واچ ڈاگ گروپ پیس ناؤ کی ایک عہدیدار ہاگیت افران نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ حکومت نے ایک اجلاس میں 4,427 غیر قانونی یہودی ہاؤسنگ یونٹس کی منظوری دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنے قبضے کو تقویت دینے کے دوران اپنی تباہی کی جانب ایک اور قدم بڑھ گیا ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی حکومت کے ترجمانوں اور مغربی کنارے میں شہری امور کے انچارج فوجی ادارے نے صحافیوں کے مطالبے کے باوجود اس منظوری سے متعلق خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ واضح رہے کہ بائیڈن انتظامیہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے یہ یہودی آبادکاریوں کے منصوبوں میں سب سے بڑی پیشرفت ہے۔

1:18 صبح مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top