کیا موجودہ پنجاب حکومت نے یکساں نصاب پر عملدر آمد روک دیا ہے؟؟؟

10 مئی, 2022 16:21

شیعیت نیوز: کیا پنجاب حکومت نے یکساں نصاب پر عملدرآمد روک دیا ہے؟جواب ہے، ہرگز نہیں!۔غلط فہمی تب پیدا ہوئی جب صوبائی محکمہ نصابیات و درسی کتب پنجاب کی طرف سے مورخہ 26 اپریل 2022 کا جاری کردہ ایک نوٹیفکیشن وائرل ہوا جس کی یہ تشریح کی جارہی ہے کہ نصاب رول بیک ہورہا ہے۔ جبکہ جہاں اس نوٹیفکیشن کے متن میں ایسی کوئی بات نہیں وہیں حکومتی حلقوں یا نصاب ساز اداروں کے اندر نصاب رول بیک کیے جانے کی نہ صرف کوئی موثق خبر نہیں بلکہ نصاب سازی اور تدوین کتب و نفاذ کا عمل حسب ضابطہ جاری ہے۔

حکومت پنجاب نے اپنے ایک سابقہ نوٹیفکیشن کے ذریعے پبلشرز کو یکساں نصاب کی روشنی میں جماعت ششم تا ہشتم/دہم کی کتب کے مسودے جمع کروانے کا اعلان کیا اور اس کے لیے ایک تاریخ مقرر کی تھی تاکہ حسب ضابطہ پبلشرز کی درسی کتب کو این او سی جاری کیا جاسکے۔ نئے نوٹفکیشن کے ذریعے پنجاب حکومت نے درسی کتب کے مسودے جمع کروانے کے نوٹیفکیشن کو فی الحال منسوخ کر دیا ہے۔

اس منسوخی کا زیادہ تر تعلق نئی حکومت کے نزدیکی پبلشر مافیاز سے ہے جن کی لاکھوں درسی کتب سابقہ نصاب کے تحت مارکیٹ میں پہلے سے موجود ہیں۔ اگر وہ نئے نصاب کے مطابق کتابیں شائع کرتے ہیں تو ظاہر ہے ان کا پرانا اسٹاک ضائع ہوجائے گا اور اگر انہیں پرانی کتابیں بیچنے کا مزید ایک سال مل جاتا ہے تو ان کو کافی کاروباری فائدہ ہوگا۔ لہذا جماعت ششم سے آٹھویں/دسویں کی درسی کتب؛ وہ بھی صرف پنجاب کی حد تک کم از کم فی الحال شائع نہیں ہورہی اور عملا چونکہ نیا تعلیمی سال شروع ہوچکا لہذا وہی پرانی کتب سکولوں میں چلیں گیں۔ ایک دوسرا احتمال یہ ہے کہ نئی وفاقی حکومت چونکہ نصاب کے مسئلے پر دوبارہ ایک وسیع قومی اتفاق رائے قائم کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز (صوبائی، نجی، گیریژن، دینی وفاقوں و غیرہ) کی ایک قومی کانفرنس کال کرنے کا ارادہ رکھتی ہے لہذا اگر اس کانفرنس میں کچھ تبدیلیوں پر اتفاق ہوتا ہے تو پنجاب کی خواہش ہوگی کہ وہ درسی کتب اس نئے قومی اتفاق رائے کے بعد شائع کرے لہذا اس نے فی الحال چھٹی سے آٹھویں/دسویں تک درسی کتب کو این او سی دینے کا عمل عارضی طور پر روکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: جنت البقیع میں اہل بیت اطہارؑ اور صحابہ کرامؓ کے مزارات کو منہدم کرنا دنیا کی سب سے بڑی دہشت گردی ہے، آئی ایس او طالبات

اس نوٹیفکیشن کا تعلق نصاب رول بیک کیے جانے یا اس پر عملدرآمد روک دینے سے نہیں ہے کیونکہ جس پروجیکٹ کو وفاق نے تمام صوبوں اسٹیک ہولڈرز اور ماہرین تعلیم کی کثیر تعداد اور بین الاقوامی اداروں کی مدد سے عرصہ 7/8 سال میں تیار کیا ہے بعید ہے کہ کوئی ایک صوبہ اسے از خود رول بیک کردے اس کے باوجود کہ آئینی طور پر صوبے اس اختیار کے حامل ہیں۔ نیز پنجاب بھر میں پہلی جماعت سے پانچویں تک یکساں نصاب کی درسی کتب پہلے ہی پڑھائی جارہی ہیں۔

کیا نئی وفاقی حکومت یکساں نصاب کو رول بیک کرنے کا ارادہ رکھتی ہے؟

نہیں!۔
البتہ نئی حکومت نے یکساں نصاب پر دوبارا سے اتفاق رائے قائم کرنے کے لیے ایک قومی کانفرنس کا عندیہ دیا ہے ۔ اس میں دیکھنے والی بات یہ ہے کہ کانفرنس میں کون شریک ہوں گے؟ وفاق، صوبے، نجی تعلیمی سیکٹر کے نمائندے، گیریژنز اور کینٹ سکولز کے نمائندے، دینی وفاقوں کے نمائندے اور محکمہ نصاب کے نامزد کردہ ماہرین تعلیم؛ یہ تو پہلے سے ہی نصاب سازی کے عمل کا حصہ ہیں اور قومی نصاب کونسل کے رکن ہیں نیز اس سے قبل یہ لوگ کئی قومی کانفرنسیں کر کے نصاب کو اس مرحلے پر لے آئے ہیں؛ یہ مزید کیا اتفاق پیدا کریں گے؟ ان کے درمیان تو پہلے ہی اتفاق ہے۔ جو تھوڑا بہت تبدیل ہوگا وہ زیادہ تر تکنیکی نوعیت کا ہوگا جوہری نوعیت کی کسی تبدیلی کو بعید سمجھتا ہوں اور ایسا کوئی اشارہ متعلقہ حلقوں کی طرف سے نہیں مل رہا۔ اس عنوان سے پاکستان کی تاریخ میں یکساں نصاب 2020 شاید واحد نصاب ہے جس پر سب سے زیادہ اسٹیک ہولڈرز اور ماہرین تعلیم کو نصاب سازی کے عمل میں شامل کیا گیا ہے۔

کیا یکساں نصاب پی ٹی آئی حکومت کا پروجیکٹ ہے؟

نہیں!۔
نصاب بااختیار حلقوں کا پروجیکٹ ہے جو 2006 کے قومی نصاب کا ارتقائی ورژن ہے۔ 2006 کا قومی نصاب بھی با اختیار حلقوں کا پروجیکٹ تھا۔ حالیہ یکساں نصاب کی بنیاد 2009 کی تعلیمی پالیسی ہے۔ اس پالیسی میں ایک بین الصوبائی کانفرنس قائم کرنے کا کہا گیا تھا، اس بین الصوبائی کانفرنس نے فروری 2014 میں یکساں قومی نصاب بنانے کے لیے قومی نصاب کونسل بنائی جس میں وفاق، صوبوں، نجی سیکٹر، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، دینی وفاقوں اور کینٹ و گیریژنز کے نمائندے اور وفاقی محکمہ نصاب کے لوگ شامل ہیں۔ یہ کونسل مجموعی طور پر یکساں نصاب کی نگرانی کرنے والا بنیادی ادارہ ہے۔ اس کے ذیل میں سبجیکٹ کمیٹیاں ہیں جن میں صوبوں اور وفاق کے نامزد کردہ ماہرین تعلیم شامل کیے گئے ہیں جن کا تعلق ہر صوبے اور تعلیمی سیکٹر سے ہے۔ دینی وفاقوں کے ماہرین مضمون کو صرف اسلامیات تک محدود رکھا گیا ہے۔
2014 میں بننے والی اسی نصاب کونسل نے نصاب کے لیے اقداری نظام ترتیب دیا، اسلام آباد کی سطح پر تجرباتی یکساں نصاب تشکیل دیا، 2017 میں یکساں نصاب کا فریم ورک ڈیزائن کیا وغیرہ۔ اسی کے تسلسل میں 2020 میں پورے ملک کے لیے یکساں نصاب سامنے آیا۔

پس یکساں نصاب کسی ایک سیاسی حکومت کا پروجیکٹ نہیں بلکہ ایک تسلسل ہے جس میں 2006 سے 2022 تک چار حکومتیں برسر اقتدار رہیں۔ ان تمام ادوار میں نصاب کا عمل حسب ضابطہ جاری رہا اور اس میں کوئی فرق نہیں آیا۔ حکومت کی حالیہ تبدیلی کے بعد نصاب کے پروجیکٹ پر کوئی زیادہ اثرات نہیں پڑنے والے البتہ ہر سیاسی حکومت نصاب پر اپنی مہر لگانے کے لیے کچھ نا کچھ ایسا کرتی ہے جو نظر آئے اور لوگ سمجھیں کہ یہ کام انہوں نے کیا ہے۔

یکساں نصاب پر شیعہ قوم کے اعتراضات کی پوزیشن کیا ہے؟

ایک سال تو حکومت پر یہ واضح نہیں ہوا کہ شیعہ چاہتے کیا ہیں۔ جب واضح ہوا کہ بعض شیعہ حلقے اسلامیات کے نصاب میں شیعہ بچوں کے لیے شیعہ عقائد اور فقہ و حدیث کی تعلیم چاہتے ہیں تو مقتدر حلقوں نے اس مطالبے کو یکسر مسترد کردیا جس پر ان شیعہ حلقوں نے مذاکرات+عوامی دباؤ کی پالیسی لی جو اس وقت تک صرف اس حد تک کارگر ہے کہ ایک فوت شدہ مسئلہ زندہ ہوگیا ہے اس کے علاؤہ اب تک کوئی قابل ذکر نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا۔ بعض دیگر شیعہ حلقوں نے جزوی اصلاحات چاہیں جن پر متعلقہ حکومتی حلقوں نے انہیں مصروف تو رکھا اور یقین دہانیاں بھی کروائی لیکن عملا کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا۔ اس صورتحال پر دونوں طرح کے شیعہ حلقے فکر مند ہیں۔ یاد رہے نصاب کے مسئلے پر شیعہ حلقے نہ صرف سیاسی حکومتوں یا محکمہ نصاب کے ساتھ مذاکرات کرچکے بلکہ مقتدر حلقوں کے ساتھ بھی مسلسل بات چیت کررہے ہیں بلکہ دستخط بھی مقتدر حلقوں کی یقین دہانی پر کیے گئے ہیں۔ لیکن اس گھڑی تک صرف یقین دہانیاں ہیں جو مقتدر حلقوں نے کروا رکھی ہیں؛ عملا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

یہ بھی پڑھیں: ایم ڈبلیوایم کا 3 روزہ مرکزی کنونشن 13 تا 15 مئی اسلام آباد میں منعقد ہوگا، نئے پارٹی سربراہ کا انتخاب بھی ہوگا

ہر دو طرح کے حلقوں نے اسلامیات کے نصاب کو تکفیری و ناصبی نصاب قرار دیا ہے لیکن مقتدر حلقوں نے شیعہ حلقوں کے نصاب کی نسبت اس فہم کو بھی یکسر مسترد کیا ہے۔

اس گھڑی تک نصاب کے مسئلے پر شیعہ حالتِ استرداد میں ہیں۔ یعنی ایک طرف شیعہ کسی نا کسی صورت میں نصاب کو مسترد کررہے ہیں جبکہ دوسری طرف نصاب سازی میں شامل ادارے اور حکومت شیعوں کے نکتہ نظر کو مسترد کررہے ہیں۔

شیعوں کے پاس کیا کوئی موقع باقی ہے؟

کچھ دن پہلے تک تو بہت اچھا موقع تھا جب تک شیعہ نمائندوں نے نصاب پر دستخط نہیں کیے تھے۔ مقتدر حلقوں سے لیکر محکمہ نصاب تک سب شیعوں کے دروازے پر کھڑے تھے۔ یہ دروازے والی بات تشبیہاً نہیں کررہا بلکہ حقیقتاً دروازے پر کھڑے تھے۔ دستخطوں سے قبل مقتدر حلقوں کے نمائندے اور محکمہ نصاب کے لوگ شیعہ اداروں اور شخصیات کے گھروں کے دروازوں پر باقاعدہ آکر کھڑے رہتے تھے کہ ہمیں ملنے اور اپنا نکتہ نظر کلیر کرنے کا موقع دیں۔ مقتدر حلقوں کی طرف سے دستخط لینے کے لیے شیعوں کے منت ترلے کیے جاتے رہے۔ شیعوں نے کمیٹیوں میں نمائندے شامل کرنے کا مطالبہ کیا تو چند گھنٹے میں مطالبہ ایسا مانا گیا کہ جو کمیٹیاں وجود نہیں رکھتی تھیں حکومت نے ان میں بھی شیعہ نمائندے شامل کردئیے۔ لیکن پھر جب دستخط ہوگئے تو اب شیعہ قوم کے نمائندے فون کرتے ہیں محکمہ نصاب اور مقتدر حلقوں کے متعلقہ کلرک فون ہی نہیں اٹھاتے اور شیعہ نمائندوں کو ان سے بات کرنے کے لیے سفارش کروانی پڑتی ہے۔ دستخط کرنے سے قبل اور بعد کی صورتحال کا موازنہ آپ خود کرلیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے کی شیعہ دشمنی، حفظ قران سینٹرز کے آرگنائزر وصال حیدر رہائی کے بعد دوبارہ گرفتار

البتہ نئی حکومت کے قومی کانفرنس کے اعلان کے بعد شیعوں کے لیے بھی ایک موقع پیدا ہوا ہے کہ وہ موثر اور متفقہ موقف کے ساتھ اس کانفرنس میں شریک ہوں۔ اختلاف رائے کو کم سے کم سطح پر لاکر قومی کانفرنس میں شیعہ قوم کی طرف سے ایک متفقہ نکتہ نظر پیش کریں جو نہ صرف اسلامیات بلکہ نصاب تعلیم کو مجموعی طور پر شامل ہو۔ اس کے لیے شیعہ رہنماؤں کو اپنی اپنی دانست کو کافی سمجھنے کی بجائے اجتماعی دانش اور اجتماعی صلاحیت سے استفادہ کرکے ایک قومی موقف تشکیل دینا اور قومی کانفرنس میں اسے پیش کرنا چاہیے۔ میرے نزدیک اس مرحلے پر صرف یہی ایک صورت ہے کہ شیعہ قوم نصاب کے عنوان سے کوئی کردار ادا کرسکے۔ قوم کے مخلص طبقات تمام شیعہ رہنماؤں اور ماہرین تعلیم کو ایک میز پر بٹھانے اور متفقہ قومی موقف تشکیل دینے اور حکومت کے سامنے رکھنے پر آمادہ کریں۔ اگر اس کانفرنس کے موقع پر بھی ہر شیعہ حلقہ علیحدہ علیحدہ اپنا راگ آلاپتا رہا تو بانسری تو شاید بجتی رہے لیکن نصاب کے حوالے سے کوئی قابل ذکر پیشرفت نہیں ہوگی۔

قوم کے اگاہ طبقے سے درخواست ہے۔ ہم اپنے اپنے پسندیدہ رہنماؤں کے دفاع میں ایک دوسرے سے تقریباً ہر روز ہی جھگڑتے رہتے ہیں۔ آئیے ایک ہی دفعہ سہی اپنے بچوں اور آئندہ نسلوں کے لیے قوم کے رہنماؤں سے جھگڑیں کہ متوقع فکری بحران کے راستے میں بند باندھنے کے لیے کسی ایک موقف پر جمع ہوں اور نتیجہ خیز کوششیں تیز کریں۔

9:17 صبح مارچ 10, 2026
بریکنگ نیوز:
Scroll to Top