شامی باشندوں کا ایک امریکی فوجی قافلے سے آمنا سامنا
شیعیت نیوز: شام کے دیہی علاقوں کے باشندوں نے غاصب امریکی فوجیوں کے کارواں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
شام کے متعدد گاؤں کے باشندوں نے مسلسل کئی دنوں سے غاصب امریکی فوجیوں کو اپنے علاقوں سے فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔
فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز پیر کے دن شمال مشرقی شام کے الحسکہ شہر کے نواحی علاقے کے دو گاؤں کے باشندوں نے ملک کی فوج کی حمایت میں امریکہ کے ایک فوجی کارواں کا راستہ بند کر دیا اور اسے پسپائی پر مجبور کر دیا۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کی رپورٹ کے مطابق الحسکہ شہر کے نزدیک الدعاوشیہ اور شرکو گاوں کے باشندوں نے شام کی فوج کی چک پوسٹ کی ایک ٹیم کے ساتھ مل کر امریکی فوج کا راستہ روک لیا اور انہیں علاقے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں : شام اور ترکی کی درمیانی سرحد جرابلس پر راکٹ حملے میں ایک شخص جاں بحق، تین زخمی
شامی خبر رساں ایجنسی نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اس کارواں میں امریکی فوج کی چار بکتر بند گاڑیاں تھیں جبکہ اس میں کرد عسکریت پسندوں سیرین ڈیموکریٹک فورس کی بھی ایک گاڑی تھی۔
امریکی فوجی الدعدوشیہ گاوں سے عبور کرکے انٹرنیشنل ہائی وے پر جانا چاہتے تھے لیکن شامی باشندوں نے فوج کی حمایت سے انہیں پسپائی پر مجبور کر دیا۔
امریکی فوجیوں کی کوشش تھی الدعدوشیہ گاؤں کو عبور کرتے ہوئے مین روڈ تک پہنچیں، لیکن مقامی افراد نے شامی فوج کے ساتھ مل کر انہیں روک دیا اور جس راستے سے امریکی فوجی آئے تھے، اسی راستے سے واپس ہٹنے پر مجبور کر دیا۔
اس سے پہلے بھی اتوار کے روز ’’تل احمد‘‘ کے علاقے کے رہائشیوں نے پانچ امریکی بکتر بند گاڑیوں پر مشتمل ایک فوجی قافلے کو روکا، جو سیرین ڈیموکریٹک فورسز (قسد) کی گاڑی کے ساتھ جا رہا تھا اور اس علاقے سے عبور کرنے کا ارادہ رکھتا تھا۔







