رہبرِ انقلابِ اسلامی کا قومی یومِ خلیج فارس پر پیغام: امریکہ کی شکست کے بعد نیا علاقائی نظام تشکیل پا رہا ہے
شیعیت نیوز : حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای، رہبرِ انقلابِ اسلامی نے قومی یومِ خلیج فارس کے موقع پر اپنے پیغام میں فرمایا کہ خلیج فارس ہماری خطے کی مسلم اقوام، خصوصاً معزز اسلامی ایران کے شریف عوام کے لیے اللہ تعالیٰ کی بے مثال نعمتوں میں سے ایک ہے۔ یہ صرف ایک آبی خطہ نہیں بلکہ ایک عظیم عطیہ ہے جس نے ہماری شناخت اور تہذیب کے ایک حصے کو تشکیل دیا ہے، اور آبنائے ہرمز اور بحیرۂ عمان میں عالمی معیشت کے لیے ایک نہایت اہم حیاتیاتی راستہ فراہم کیا ہے۔
رہبرِ انقلاب نے فرمایا کہ یہ اسٹریٹجک سرمایہ گزشتہ صدیوں میں بے شمار شیاطین کی طمع کا نشانہ رہا ہے، اور یورپی و امریکی طاقتوں کی بار بار جارحیت اور خطے کے ممالک کے لیے بدامنی دراصل عالمی استکبار کی سازشوں کا حصہ ہے، جس کی تازہ ترین مثال بڑے شیطان کی حالیہ غنڈہ گردیاں ہیں۔
انہوں نے فرمایا کہ ایران، جو خلیج فارس کے سب سے طویل ساحلی علاقے کا مالک ہے، غیر ملکی جارحین کے خلاف سب سے زیادہ قربانیاں دینے والا ملک رہا ہے۔ پرتگالیوں کے اخراج اور آبنائے ہرمز کی آزادی سے لے کر برطانوی استعمار کے مقابلے میں مزاحمت تک — لیکن اسلامی انقلاب ان تمام مزاحمتوں کا نقطۂ عطف ثابت ہوا۔ آج دنیا کے جابروں کی سب سے بڑی فوج کشی اور جارحیت کے دو ماہ بعد، اور امریکہ کی اپنی سازش میں رسوا کن شکست کے بعد، خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کا ایک نیا باب رقم ہو رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : فارن پالیسی کا تجزیہ، ایران ابھی تک پیچھے کیوں نہیں ہٹا؟
رہبرِ انقلاب نے فرمایا کہ خلیج فارس کی اقوام گزشتہ ساٹھ دنوں میں ایرانی بحریہ اور سپاہ کے بہادر جوانوں کی عظیم استقامت، بیداری اور جہاد کے حسین مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ چکی ہیں، جنہوں نے غیر ملکی تسلط کو مسترد کر دیا۔
انہوں نے فرمایا کہ آج بادشاہوں اور حکمرانوں پر بھی یہ حقیقت ثابت ہو چکی ہے کہ خلیج فارس میں امریکی موجودگی اور ان کے اڈے خطے میں بدامنی کا سب سے بڑا سبب ہیں، اور امریکہ کے کھوکھلے اڈے اپنی حفاظت تک کی صلاحیت نہیں رکھتے، چہ جائیکہ وہ اپنے علاقائی وابستگان کو تحفظ فراہم کر سکیں۔
رہبرِ انقلاب نے فرمایا کہ خلیج فارس کے خطے کا روشن مستقبل ایک ایسا مستقبل ہوگا جو امریکہ سے پاک اور اپنی اقوام کی ترقی، آسائش اور خوشحالی کے لیے وقف ہوگا۔ ہم اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اس وسیع آبی خطے میں ہم سرنوشت ہیں، جبکہ ہزاروں کلومیٹر دور سے لالچ کے ساتھ شرارت کرنے والے غیر ملکیوں کا یہاں کوئی مقام نہیں، سوائے اس کے کہ وہ اس کے پانیوں کی تہہ میں دفن ہوں۔
انہوں نے مزید فرمایا کہ آج ملتِ ایران کی معجزانہ بیداری صرف صہیونیت اور خونریز امریکہ کے خلاف کروڑوں جانثاروں تک محدود نہیں رہی، بلکہ پوری بیدار اسلامی امت کے شانہ بشانہ نوّے ملین غیور ایرانی اپنی تمام علمی، صنعتی اور جدید ٹیکنالوجی — نانو، بایو، ایٹمی اور میزائل سمیت — کو قومی سرمایہ سمجھتے ہیں اور آبی، زمینی و فضائی سرحدوں کی مانند ان کی حفاظت کریں گے۔
رہبرِ انقلاب نے اپنے پیغام کے اختتام پر فرمایا کہ اسلامی ایران آبنائے ہرمز پر مؤثر انتظام کی نعمت کا عملی شکر ادا کرتے ہوئے خلیج فارس کے خطے کو محفوظ بنائے گا۔ آبنائے ہرمز کے لیے نئے قانونی ضوابط اور انتظامی نفاذ خطے کی تمام اقوام کے حق میں آسائش، ترقی اور اقتصادی فوائد کا باعث بنیں گے — ان شاء اللہ، چاہے کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔







