سپریم کورٹ کی کارروائی اور فیصلے بھی اردو زبان میں ہونے چاہیں، علامہ ساجد علی نقوی
شیعیت نیوز: علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں کہ ہم روز اول سے اردو زبان کو اس کا آئینی و جائز حق دینے کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں۔
انہوں نےکہا کہ سپریم کورٹ کے واضح حکم کے با وجود خلاف ورزی کا کوئی جواز نہیں،سپریم کورٹ کی کارروائی بھی اردو میں ہونی چاہیے اور سپریم کورٹ کے فیصلے بھی قومی زبان اردو میں تحریر کرائے جانے چاہیں تاکہ سپریم کورٹ میں اپنے فیصلوں پر عملدرآمد اور اردو زبان کا عملی استعمال و نفاذ ہو تا دکھائی دے ۔
یہ بھی پڑھیں : یکساں نصاب تعلیم کے نام پر ملت تشیع کے بنیادی عقائد کو نشانہ بنانے کی دانستہ کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا،علامہ مقصود ڈومکی
علامہ ساجد علی نقوی نے مزید کہاکہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود آئین کے آرٹیکل 251 کے نفاذ سے گریز کیا جاتا رہا ہے اور اب بھی یہی تاخیری حربے استعمال ہورہے ہیں جبکہ سپریم کورٹ نے 2015 میں ملک میں ردو زبان کو نافذ کرنے اور دیگر صوبائی وعلاقائی زبانوں کی ترویج واشاعت سے متعلق حکم جاری کیا تھا لیکن وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت نے اس پر آج تک عملدرآمد نہیں کیا ہے حکومت کو زیادہ قت دینا مناسب نہیں عملدرآمدکرایا جائے ۔
یہ بھی پڑھیں : عظمت قرآن کانفرنس استحکام پاکستان کی ضمانت کے مترادف ثابت ہو گی، علامہ مختار امامی
علامہ ساجد علی نقوی نے کہاکہ آرٹیکل 251 جہا ں قومی زبان کے حق کی بات کرتاہے وہی مادری زبان کے تحفظ کی بھی ضمانت دیتاہے۔
آخر میں علامہ ساجد نقوی نے کہاکہ ہم منتظر ہیں کہ ملک میں قوانین کے ساتھ کیسز کے فیصلے بھی اردو میں دیئے جائیں تاکہ عوام کی اکثریت ان سے مستفید ہوسکے ۔







