اسرائیلی کھدائیوں سے مسجد ابراہیمی کے وجود کو شدید خطرات لاحق ہیں، غسان الرجبی

12 مارچ, 2022 08:44

شیعیت نیوز: مسجد ابراہیمی کے ڈائریکٹر غسان الرجبی نے کہا کہ اسرائیلی حکام نے الخلیل میں قائم تاریخی مسجد ابراہیمی کے آس پاس میں یہودی کاری کا کام جاری رکھا ہے۔ نئی کھدائیوں کے نتیجے میں مسجد کی عمارت کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔

غسان الرجبی نے کہا کہ گزشتہ سال 10 اگست سے قابض اسرائیلی فوج نے مسجد کے اطراف میں یہودیت کی خطرناک ترین سکیموں پر عمل درآمد شروع کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : کسی بھی ملک نے ایران کی مانند فلسطین کی جدوجہد کی حمایت نہیں کی ہے، تحریک مجاہدین

الرجبی نے مزید کہا کہ قابض اسرائیلی حکام نے ’’برقی لفٹ‘‘ تک پہنچنے کے لیے ’’سیاحتی راستے‘‘ کے نام سے  239 میٹر تک کا فاصلہ ’’سرپل کی شکل ‘‘ اسکیم پر عمل درآمد شروع کر دیا تاکہ مسجد ابراہیمی کا زیادہ تر حصہ چرایا جا سکے اور اس کی قیمتی اراضی پر قبضہ جمایا جا سکے۔

انہوں نے نشاندہی کی کہ لفٹ مسجد ابراہیمی کے صحنوں کی تقریباً 93 مربع میٹر زمین ہڑپ کر جائے گی۔

انہوں نے ایک نیٹ ورک کی نگرانی کی طرف توجہ مبذول کروائی جسے قابض اسرائیلی حکام اور اس کے آباد کاروں نے ضبط کر لیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں : قابض اسرائیلی اتھارٹی کی جانب سے مکانات مسماری اور نقل مکانی مہم کے خلاف شدید احتجاج

الرجبی نے کہا کہ جو چیز الخلیل کے اندر طے پانے والے بڑے تصفیے کے منصوبوں کو تقویت دیتی ہے وہ قابض اسرائیلی ریاست میں سینئر شخصیات کی پے در پے دراندازی ہیں جن میں سے تازہ ترین امریکی نائب صدر مائیک پینس کے کل کیے گئے طوفانی دورے کی شکل میں سامنے آئی۔

امریکی نائب صدر کہ دورہ الخلیل سے فلسطین میں یہودی آباد کاری کی پالیسی میں معاونت کے سوا کچھ نہیں۔

8:33 شام مارچ 16, 2026
بریکنگ نیوز:
اوپر تک سکرول کریں۔