پشاور جامع مسجد امامیہ میں خودکش حملے کے سہولت کار کا کس عرب ملک سے تعلق ہے، اہم انکشاف سامنے آگیا
شیعیت نیوز: پشاور جامع مسجد امامیہ میں خودکش حملے کے سہولت کار کا کس عرب ملک سے تعلق ہے، اہم انکشاف سامنے آگیا۔قصہ خوانی بازار کی مسجد میں دھماکا کرنے والے خودکش بمبار اور اس کے سہولت کار کی تفصیلات سامنے آگئیں۔
ذرائع کے مطابق پشاور کے علاقے کوچہ رسالدار کی مسجد میں ہونے والے دھماکےمیں ملوٹ نیٹ ورک کے خلاف مختلف اضلاع میں آپریشنز جاری ہیں، سی ٹی ڈی اسپیشل انوسٹی گیشن کی 4 ٹیمیں مختلف قبائلی اضلاع میں موجود ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹر انٹیلیجنس کوآڈینیشن ٹیمیں بھی واقعہ میں ملوٹ سہولت کاروں معاونت کاروں نیٹ ورک کے لیے کام کر رہی ہیں۔
دوسری جانب ذرائع نے بتایا کہ دھماکے میں ملوث نیٹ ورک کے ایک سہولت کار اور خودکش حملہ آور کی شناخت ہو گئی ہے، جس کے مطابق خودکش بمبار کی عرفیت عبداللہ نامی تھی اور وہ نام بدلتا رہتا تھا۔
جب کہ خودکش بمبار کے ایک سہولت کار کا ڈیٹا اور تصویر حاصل کرلی گئی ہے، مبینہ ملزم حسن شاہ کا تعلق جمرود خیبر ضلع سے بتایا جاتا ہے، جوکہ سعودی عرب کا رہائشی ہے۔

دستاویزات کے مطابق سہولت کار کا نام حسن شاہ ہے جبکہ اس کا تعلق ضلع خیبر کی تحصیل جمرود کے کوکی خیل ظور خیل سے ہے اور اس کی موجودہ رہائش سعودی عرب بتائی گئی ہے۔نیٹ ورک سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے جی ایس ایم لوکیٹر کی مدد سے قبالی اضلاع میں کوشش جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: داعش کی شام سے یوکرین میں دستک، 1000 دہشت گرد پہونچے،رپورٹ
ذرائع کا کہنا ہے کہ تحقیقاتی ٹیم نے خود کش بمبار اور سہولت کار کو جائے وقوعہ تک پہنچانے والے رکشہ ڈرائیور کا انٹرویو بھی مکمل کر لیا، رکشے ڈرائیور سے تفتیش کے بعد شہر کے دیگر مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیجز حاصل کر لی گئیں۔
واضح رہے کہ اس دھماکے کے نتیجے میں 65 سے زائد مومنین شہید ہوئے ہیں اور کئی مومنین اس وقت زیر علاج ہیں جن میں سے کچھ کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔یاد رہے کہ اس دھماکے کی ذمہ داری عالمی دہشتگرد تنظیم داعش نے قبول کی تھی۔







