دنیا کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم شہادتوں پر شرمندہ نہیں بلکہ سرخرو ہیں، علامہ رضی جعفر نقوی
شیعیت نیوز: جعفریہ الائنس پاکستان کی جانب سے پشاور میں امام بارگاہ میں ہونے والی دہشت گردی کے خلاف نشتر پارک کراچی میں مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔ پریس کانفرنس میں علامہ مرزا یوسف حسین، علامہ باقر حسین زیدی، علامہ فرقان حیدر عابدی، علامہ علی کرار نقوی، شبر رضا رضوی سمیت علماء و ذاکرین کی بڑی تعداد موجود تھی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جعفریہ الائنس پاکستان کے صدر علامہ سید رضی جعفر نقوی کا کہنا تھا کہ نماز جمعہ کی ادائیگی کے دوران ایک مرتبہ پھر ملت تشیع کو دہشت گردی اور بربریت کا نشانہ بنایا گیا ہے جس میں 80 سے زائد شہادتیں اور 200 سے زائد مومنین زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں، 2015ء کے بعد سے ایسا تاثر دیا جارہا تھا کہ ملک میں بدامنی کا سلسلہ رک گیا ہے لیکن یہ سلسلہ مکتب اہل بیت کے لئے جاری رہا، چاہے وہ مچھ کا سانحہ ہو بہاولنگر کا یا پھر حالیہ پشاور دہشت گردی کا ملت تشیع کا ناحق خون اسی امن کی بہتر صورتحال میں بہایا گیا، اگر حکومت سنجیدگی سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کرے اور کالعدم جماعتوں کیخلاف بھرپور آپریشن کیا جائے تو شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ممکن بنایا جا سکتا ہے، ہم شیعہ جامع مسجد امامیہ کوچہ پشاور میں بے گناہ نمازیوں پر ہونے والی دہشت گردی کی بھر پور مذمت کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بانی آئی ایس او شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی 27 ویں برسی کی تقریبات کا آغاز
علامہ رضی جعفر نقوی کا کہنا تھا کہ شعبان کا مہینہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے عالم کی خوشی کا مہینہ ہے مگر ہم آل محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد منعقد کرکے دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم ان شہادتوں پر شرمندہ نہیں بلکہ سرخرو ہیں جیسا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان، وزیر داخلہ شیخ رشید کا بیان سامنے آیا ہے کہ ہم دہشت گردوں سے آگاہ ہیں اور ہمارے پاس ان کی تمام معلومات موجود ہیں، اب ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ حکومت کتنی جلدی اس وحشیانہ اقدام کرنے والوں کو گرفتار کرکے کیفرکردار تک پہنچاتی ہے، اگر ان دہشتگردوں کے خلاف حکومت وقت نے سات دن میں کوئی واضح اقدام نہیں کیا تو ہم آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، ہم موجودہ حکومت کے اقدام کا گہری نظر سے جائزہ لے رہے ہیں اور محسوس کر رہے ہیں کہ ملت تشیع کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یکطرفہ اقدامات ہو رہے ہیں جو آئین پاکستان کی کھلی خلاف ورزی ہے، یکساں نصاب تعلیم کا مسئلہ انتہائی حساس نوعیت کا مسئلہ ہے، اس سلسلے میں جو اقدامات کئے گئے ہیں وہ تعصب پر مبنی ہے، اس لئے حکومت وقت نصاب کے مسئلے پر نظرثانی کرے۔
یہ بھی پڑھیں: ملک دشمن عناصر کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی خواہش کے بھیانک نتائج پوری قوم کو بھگتنے پڑ رہے ہیں،علامہ حسن ظفر نقوی
علامہ رضی جعفر نقوی کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر کی آڑ میں مسلسل فرقہ وارانہ تعصب کو ہوا دی جا رہی ہے اور کالعدم جماعتوں کا ہمارے علم اور دینی شخصیات پر بے بنیاد الزامات لگانے کا سلسلہ جاری ہے جو کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہے، فور شیڈول کا مسئلہ جس میں دہشت گردوں اور کالعدم جماعتوں کے لوگ دندناتے پھر رہے ہیں اور ہمارے مجالس و جلوس کے بانی ان کو اس کا نشانہ بنایا جارہا ہے جو کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا، عزاداری ہماری عبادت ہے جس کی آئین پاکستان ہمیں اجازت دیتا ہے اور ہم اس میں کسی بھی پابندی کو برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں، ان تمام عوامل کی وجہ سے ملت تشیع میں اس وقت بے چینی اور اضطراب پایا جاتا ہے لیکن ہم ملک کی بقاء و سلامتی کے لئے اپنی افواج پاکستان کے ساتھ ملک کی داخلی اور خارجی سرحدوں کی حفاظت کے لئے آمادہ ہیں اور جب ضرورت پڑی دشمنان پاکستان کے خلاف افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔







