بانی آئی ایس او شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی 27 ویں برسی کی تقریبات کا آغاز
شیعیت نیوز :شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی 27 ویں برسی کی تقریبات کا آغاز شہید کے مزار علی رضا آباد میں ہوا۔ دستہ حیدر اور دستہ حسینی نے سلامی پیش کی۔ اس موقع مولانا سید اسد عباس نقوی، مرکزی صدر آئی ایس او پاکستان زاہد مہدی، امامیہ چیف سکاوٹ سید غیور نقوی، سابق امامیہ چیف سکاوٹ حیدر فضل نقوی سمیت دیگر نے شرکت کی۔
سابق امامیہ چیف سکاوٹ حیدر فضل نقوی نے کہا کہ آج جب ہم شہید کی برسی منا رہے ہیں، ہمارے سینوں میں پشاور کے 65 شہیدوں کا زخم تازہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملت جعفریہ پاکستان شہداء کی امین ہے اور آج اس موقع پر ہم نے عہد کرنا ہے کہ ہم نے شہداء کے مشن کو فراموش نہیں کرنا بلکہ ان کی فکر کے احیاء کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھنا ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیں: ملک دشمن عناصر کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی خواہش کے بھیانک نتائج پوری قوم کو بھگتنے پڑ رہے ہیں،علامہ حسن ظفر نقوی
مولانا سید اسد عباس نقوی نے کہا کہ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی برسی پر تعزیت پیش کرتا ہوں، شہداء پشاور کی تعزیت پیش کرتا ہوں، شہید ڈاکٹر نقوی کا لگایا ہوا شجرہ طیبہ آئی ایس او پاکستان آج ترو تازہ ہے، کسی بھی شخصیت کی بنیاد اس کا نظریہ ہوتا ہے، ڈاکٹر نقوی ایک آئیڈیالوجیکل انسان تھے جن کی نس نس میں فکر اہلبیت ؑ بسی ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے زمانے میں مکتب اہل بیتؑ کی مجسم شکل کو متعارف کروایا وہ خط ولایت فقیہہ تھا، جس پر ڈاکٹر نقوی نے قائم رہ کر اس پرچم ولایت کو ایسا بلند کیا کہ یہ ظہور حجت تک اسی طرح بلند رہے گا۔ مولانا اسد عباس نقوی نے کہا کہ جس طرح امام خمینی نے خود کو اسلام میں ضم کرلیا تھا، اسی طرح ڈاکٹر نقوی نے خود کو امام خمینی میں ضم کرلیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: حکمران اپنے اقتدار کی بجائے ملک اورقوم کی جان ومال کے بارے میں سوچیں، ایم ڈبلیوایم مظفرگڑھ
انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نقوی کی خصوصیت تھی کہ وہ معاشرے کا حصہ بن کر رہے اور معاشرے کے روحانی و جسمانی دونوں بیماریوں کا علاج کرتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹر نقوی کو اس بات کا دکھ تھا کہ لوگ تنظیم سے نکلتے ہی واپس معاشرے کا حصہ کیوں بن جاتے ہیں، وہ فعالیت کیوں نہیں دکھاتے، تو اس کا جواب یہی دیتے تھے کہ ان کی روحانیت کمزور تھی۔ انہوں نے کہا کہ مومن کا دل خدا کا گھر ہوتا ہے، اس گھر میں کسی اور کو جگہ نہ دو، اگر آپ کا دل شفاف ہوگا تو آپ کی بات میں وزن ہوگا۔







