طالبان نے اپنی حکومت پر تنقید کرنے والے پروفیسر فیض اللہ جلال کو گرفتار کرلیا

شیعیت نیوز: افغانستان میں طالبان نے طالبان حکومت پر کھل کر تنقید کرنے والے افغان یونیورسٹی کے ایک پروفیسر فیض اللہ جلال کو گرفتار کر لیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق افغان یونیورسٹی کے پروفیسر فیض اللہ جلال کو کابل میں گرفتار کیا گیا ہے اور طالبان کے انٹیلی جنس ادارے اُن سے تفتیش کر رہے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ پروفیسر فیض اللہ جلال کو سوشل میڈیا پر لوگوں کو حکومت کے خلاف اکسانے اور شہریوں کے وقار سے کھیلنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔
ترجمان طالبان کا مزید کہنا تھا کہ پروفیسر کے نام یا اسکالر ہونے کے بنا پر کسی کو بھی دوسروں کے عزت و وقار پر منفی تبصرے کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
ذبیح اللہ مجاہد نے پروفیسر فیض اللہ جلال کے ٹویٹس کے اسکرین شاٹس بھی لگائے جس میں پروفیسر جلال نے لکھا تھا کہ طالبان کی نئی حکومت افغانیوں کو گدھا سمجھتی ہے اور طالبان حکومت پڑوسی ملک کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے۔
پروفیسر فیض اللہ جلال طالبان کو غیر جمہوری حکومت قراردیتے ہوئے اسے افغانستان کے اقتصادی بحران کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں : پاکستان کو ایٹم بم بنانے میں مدد فراہم کرنے والی کمپنیوں پر بم حملوں میں اسرائیل کا ہاتھ تھا
دوسری جانب امیرخان متقی وزیر خارجہ طالبان نے کہا کہ ایرانی فریق کے ساتھ تجارت، تیل، ٹرانزٹ، سیاست اور سیکورٹی کے شعبوں میں مثبت ملاقاتیں کیں۔ ہمارا مقصد خطے کے ساتھ خاص طور پر پڑوسی ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنا ہے۔
فارس کے مطابق، گروپ کے وزیر خارجہ امیر خان متقی کی قیادت میں طالبان کا ایک وفد کل شام تہران پہنچا۔
طالبان کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے بھی کہا کہ امیر خان متقی اپنے دورے کے دوران ایرانی حکام کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران میں سیاسی، اقتصادی، ٹرانزٹ اور افغان مہاجرین پر بات چیت کریں گے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے تعلقات عامہ نے اعلان کیا ہے کہ کل رات افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی ایک اقتصادی اور سیاسی وفد کی سربراہی میں تہران پہنچے ہیں۔
وزارت کے مطابق وفد جس میں افغانستان کی معیشت و صنعت کی وزارتوں کے سربراہان، تجارت اور متعدد اقتصادی وزارتوں کے نائبین شامل ہیں، دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون پر بات چیت کریں گے۔
ایران کی وزارت خارجہ کے تعلقات عامہ نے تاکید کی کہ ایران ہمیشہ ہمسایہ ملک کے عوام کے مفادات بالخصوص موجودہ حالات میں دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر تاکید کرتا ہے۔
وزارت کے مطابق، دورے کے دوران مختلف اقتصادی اور تجارتی امور جیسے کہ بینکنگ تعاون، سرحدی منڈیوں، کان کنی، تجارت اور کھیلوں میں تعاون پر معاہدے کیے جائیں گے۔