اسرائیلی حکام نے جبل المکبر میں فلسطینی شہری کا گھر مسمار کر دیا
شیعیت نیوز: اسرائیلی حکام نے مشرقی بیت المقدس کے علاقے جبل المکبر میں ایک فلسطینی شہری کا گھر غیر قانونی قرار دے کر مسمار کر دیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق اسرائیلی بلڈوزر اور اسرائیلی پولیس کی ایک بھاری تعداد نے جبل المکبر کو گھیرے میں لے کر پانچ سال قبل تعمیر ہونے والے گھر کو مسمار کر دیا۔
اس گھر کے مالک کا نام محمد بشیر ہے اور انہوں نے اپنے بیٹے کی شادی کے لئے اس گھر کو حال ہی میں سجا کر اس میں نیا سامان رکھوایا تھا ۔
عینی شاہدین کے مطابق پولیس اہلکاروں نے گھر کی مسماری کے دوران اہل خانہ کی جانب سے احتجاج پر انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔
مسماری کے بعد قابض پولیس نے مقامی رہائشیوں پر آنسو گیس داغے اور ان کے ساتھ جھڑپیں کی۔ اس موقع پر کئی شہریوں کا سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔
پچھلے ماہ کے دوران اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور نے بتایا ہے کہ پچھلے ایک سال کے دوران اسرائیلی حکام نے 2020 کی نسبت 21 فیصد زائد املاک کو مسمار اور 28 فیصد زائد افراد کو بے گھر کیا جو کہ تشویش ناک ہے۔
یہ بھی پڑھیں : قابض صیہونی فوج نے غرب اردن اور بیت المقدس سے متعدد شہریوں کو اغوا کر لیا
دوسری جانب اسرائیلی فوجیوں نے ظلم و بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطینیوں پر حملہ کر کے کئی گھروں کو مسمار کردیا ہے۔
اںاتولی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق الولجہ دیہی علاقے کی کونسل کے صدر خضر الاعرج نے کہا ہے کہ قدس کی غاصب اور جابر صیہونی حکومت کے دہشت گرد فوجیوں نے اس علاقے کے ون تھرڈ مکینوں کے گھروں کو مسمار کرنے کی وارننگ دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس دیہی علاقے میں تقریبا 3 ہزار لوگ زندگی بسر کرتے ہیں اور ملنے والی دھمکی کے بعد تقریبا 9 سو افراد کے اس علاقے سے نکلنے کا خطرہ پیدا ہو گيا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے حکام اس علاقے کے مکینوں سے اس قسم کا برتاو کرتے ہیں جیسا وہ ان کے زیر قبضہ اور زیر کنٹرول ہیں۔
قدس کی غاصب اور جابر صیہونی حکومت کے دہشت گرد فوجیوں نے جاری سال 2021 میں 950 فلسطینیوں کے گھروں اوران سے متعلق املاک کو ویران کردیا۔







