حماس کے خلاف برطانوی فیصلہ فلسطینی عوام کے خلاف جرم ہے، عزیز دویک
شیعیت نیوز: فلسطینی قانون ساز کونسل کے اسپیکر عزیز دویک نے اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کو برطانیہ کی طرف سے دہشت گرد تنظیم قراردینے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ تحریک کو مجرم قرار دینے کے برطانوی فیصلے کو فلسطینی عوام کے خلاف حد سے زیادہ جرم قرار دیا۔
عزیز دویک نے ایک پریس بیان میں کہا کہ برطانوی فیصلہ بین الاقوامی اتفاق رائے کے خلاف ہے جس میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی عوام کو تمام دستیاب ذرائع سے اپنی سرزمین اور وطن کی آزادی کا دفاع کرنے کا حق حاصل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ کو فلسطینی عوام کی ان کی جائز کوشش میں، بین الاقوامی قانونی قراردادوں کے مطابق تمام دستیاب ذرائع سے قبضے کے خلاف مزاحمت کرنے کی راہ میں حائل نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نےکہا کہ برطانیہ اب بھی فلسطینی عوام کے خلاف جرائم جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ یہ وہی برطانیہ ہے جس کی وجہ سے فلسطینی قوم آج بےگھر اور مصائب کا شکار ہے۔
عزیز دویک نے زور دے کر کہا کہ یہ فیصلہ اندھے تعصب کی کیفیت کا اظہار ہے جو فلسطینی عوام کے خلاف جرائم میں ملوث ہونے کی تمام حدود سے آگے ہے۔
یہ بھی پڑھیں : القدس محافظوں اور آزادی پسندوں کے لیے ایک انجن ہے، شیخ صالح العاروری
دوسری جانب حماس کے سیاسی شعبے کے سینیر رُکن حسام بدران نے برطانیہ کی طرف سے حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایک بیان میں حسام بدران نے کہا کہ برطانوی حکومت نے حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دے کر یہ ثابت کیا ہے کہ برطانیہ آج بھی عشروں پہلے کی استعماری پالیسی پرقائم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس کو دہشت گرد تنظیموں میں شامل کرنا سنہ 1917ء میں جاری کردہ بدنام زمانہ اعلان بالفور کی کڑی ہے۔
حسام بدران نے کہا کہ برطانوی حکومت کا فیصلہ نہ صرف حماس کےخلاف ہے بلکہ یہ پوری فلسطینی قوم کے خلاف اور فلسطینی تحریک آزادی کے خلاف ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دینا اسرائیلی دہشت گردی اور فلسطینیوں کےقتل کے جرائم کی حمایت اور دشمن کی معاونت کرنے کےمترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ حماس اور برطانیہ کے درمیان کسی قسم کےتعلقات نہیں۔ خیال رہے کہ برطانوی حکومت نے دو روز قبل ایک متنازع فیصلے کے تحت حماس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا جس پر فلسطینی حلقوں کی طرف سے شدید مذمت اور قابض اسرائیل کی طرف سے تحسین کی گئی ہے۔







