اسرائیلی حکام کا فلسطینی شہید امجد ابو سلطان کا جسد خاکی ورثا کو دینے سے انکار
شیعیت نیوز: اسرائیلی حُکام نے بیت لحم سے شہید امجد ابو سلطان کا جسد خاکی اس کے ورثا کو دینے سے انکار کردیا۔ شہید کے جسد خاکی کو کل جمعہ کی سہ پہر کواس کے لواحقین کےحوالےکرنا تھا۔
قابض حکام کا مؤقف تھا کہ لاش جو جبعہ چوکی پر پہنچائی جانی تھی 14 سالہ شہید ابو سلطان کی نہیں تھی۔
ابو سلطان جمعرات کی شام 10/14/2021 کو قابض افواج اور آباد کاروں کے ساتھ تصادم کے دوران شہید ہوئے۔ اس دوران القدس اور بیت المقدس کے درمیان سڑک پر آباد کاروں کی گاڑیوں پر پٹرول بم پھینکے۔
قبل ازیں شہید کے والد نے اپنے بیٹے کی حب الوطنی اور مزاحمتی سرگرمی سے محبت کا انکشاف کیا۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ قابض حکام کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ لے رہا تھا۔
آخری دور میں امجد سیف القدس کی جنگ سے متاثر ہوا اور وہ ہمیشہ مزاحمت کا ساتھ دیتا رہا اور ہر موقع پر وہ بالعموم مزاحمت کا نعرہ لگاتا اور محمد الضیف اور ابو عبیدہ کی حمایت میں نعرے لگاتا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں : نہتے فلسطینی بچے کا اسرائیلی فوج کے ہاتھوں قتل سنگین جرم ہے، اسلامی تعاون تنظیم
دوسری جانب فلسطین میں اقوام متحدہ کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران قابض اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں تین فلسطینی شہید جب کہ 49 مکانات کو مسمار کیا گیا۔
اقوام متحدہ کی طرف سے جاری رپورٹ میں دو سے پندرہ نومبر کے درمیان عرصے میں اسرائیلی کارروائیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے فلسطین میں دفتر برائے انسانی اموراوچا کی طرف سے جاری کی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران اسرائیلی فوج کی انتقامی کارروائیوں کے نتیجے میں 190 فلسطینی بے گھر ہوئے۔ جب کہ غرب اردن اور القدس میں تین فلسطینیوں کو شہید کیا گیا۔ اس دوران اسرائیلی فوج کے تشدد سے 135 فلسطینی زخمی ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران اسرائیلی فوج کی انتقامی کارروائیوں میں 49 مکانات مسمار کیے گئے۔ ان میں مشرقی بیت المقدس میں موجود مکانات بھی شامل ہیں۔
اوچا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مکانات کی مسماری سے 38 خواتین اور بچوں سمیت دو سو کے قریب فلسطینی براہ راست اور 400 فلسطینی بالواسطہ طورپر متاثر ہوئے ہیں۔
مسمار کی جانے والی فلسطینی عمارتوں میں مکانات، دکانیں، سیکٹر سی میں موجود ایک مسجد اور دیگر املاک شامل ہیں۔







