خطے کا امن مسئلہ کشمیر سے جڑا ہواہے، عوامی امنگوں کے مطابق قابل عمل حل تلاش کیا جائے،علامہ ساجد نقوی
شیعیت نیوز: سربراہ شیعہ علماء کونسل پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں کہ خطے کا امن مسئلہ کشمیر سے جڑا ہے، تمام سٹیک ہولڈرز، عوامی طبقات اور بین الاقوامی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے قابل عمل حل تلاش کیا جائے، کشمیرکی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھی جائے، مقبوضہ علاقے کبھی اٹوٹ انگ نہیں ہوتے، بھارت ہٹ دھرمی چھوڑے اور مظلوم عوام کواستصواب رائے کا حق دے، جنوبی ایشیاکا پائیدار امن بھی مسئلہ کشمیر سے جڑا ہے ،پاکستان موثر سفارتکاری کے ذریعے سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدارملک میں عوام پر بے پناہ مظالم کو بے نقاب کرچکا اب ضرورت اس امرکی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے قابل عمل حل کےلئے تمام طبقات کو اعتماد میں لے کر بین الاقوامی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے لائحہ عمل مرتب کیا جائے ، اقوام متحدہ اور او آئی سی کو بھی کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے اور بھارتی ظالمانہ اقدامات کو روکنے میں کر دار ادا کریں اور انسانی حقوق کی تنظیمیں مظلوموں کی آواز بنیں۔
یہ بھی پڑھیں: جہادالنکاح کرنے والی داعشی دلہن کا اپنے شوہر کے ساتھ مل کر دل دہلادینے والا جرم
ان خیالات کا اظہار انہوں نے بھارتی تسلط اور ناجائز قبضہ کو 7دہائیوں سے زائد عرصہ قبل جب27 اکتوبر 1947ءکو بھارت نے اپنی قابض فوجیں سرزمین کشمیر پر اتار کر انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی سب سے بڑی خلاف ورزی کی، اس حوالے یوم سیاہ پر اپنے پیغام میں کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ سینکڑوں کشمیری شہید کئے جاچکے، پیلٹ گنزکے استعمال سے جوانوں کے ساتھ بزرگ شہریوں ، خواتین اور بچوں تک کو نشانہ بنایاگیا اور بینائی سے محروم کردیاگیا ۔
یہ بھی پڑھیں: ہنگو، کالعدم سپاہ صحابہ /لشکر جھنگوی کے ہاتھوں شیعہ سرکاری اسکول ٹیچر ٹارگٹ کلنگ کانشانہ بن گیا
انہوں نے مزید کہا کہ سید علی گیلانی جیسی بزرگ شخصیت بھی دوران اسیری ہی خالق حقیقی سے جاملی لیکن کسی کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی جبکہ دوسال قبل سفا کیت کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے غاصب بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت تک ختم کردی اور اب مودی سرکار اوچھے ہتھکنڈوں سے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا چاہتی ہے اور کشمیر کے باسیوں کو ہر لحاظ سے ان کی اپنی سرزمین سے بے دخل کرنے کی سازش کررہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسئلہ کشمیر کے قابل عمل حل کےلئے آگے بڑھا جائے اور طبقات کو اعتماد میں لیتے ہوئے بین الاقوامی قوانین کی روشنی میں قابل عمل حل مرتب کیا جائے اور اس کے مطابق عملی اقدامات کئے جائیں ۔







