قبلہ اوّل پر قابض سے آل خلیفہ کے دوستانہ تعلقات کے خلاف بحرینی عوام کے مظاہرے جاری

شیعیت نیوز: قبلہ اوّل پر قابض صیہونی حکومت سے آل خلیفہ حکومت کے دوستانہ تعلقات کے خلاف بحرینی عوام کے مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔
رپورٹ کے مطابق بحرین کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی جمعیت الوفاق نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر لکھا ہے کہ السنابس علاقے کے باشندوں نے منگل کے روز سڑکوں پر نکل کر ملک میں صیہونی سفارت خانے کے افتتاح کے خلاف مظاہرہ کیا۔
جمعیت الوفاق نے کہا کہ ان مظاہروں میں بحرینیوں نے ’اسرائیل مردہ باد‘، ’اسلامی بحرین میں صیہونی سفارت خانے کی اجازت نہیں‘، ’بحرین کی سرزمین سے باہر نکلو‘ جیسے نعرے لگا کر آل خلیفہ حکومت کے صیہونی حکومت سے تعلقات کی بحالی کی پوری شدت سے مخالفت کی۔
رپورٹ کے مطابق مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں ایسے پلے کارڈ اور بینر اٹھا رکھے تھے جس پر لکھا ہوا تھا غاصب صیہونی حکومت سے تعلقات غداری ہے اور سیاسی قیدیوں کو فورا آزاد کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں : تہران میں 35 ویں عالمی اسلامی وحدت کانفرنس کا آغاز
رپورٹ کے مطابق آل خلیفہ کے کارندوں نے اپنی جارحانہ انتہا پسندانہ پالیسیوں کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے طاقت کے پل پر مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی اور ساتھ ہی ایک اور نوجوان عباس عون کو اٹھا لے گئے۔
یاد رہے کہ حال ہی میں قبلہ اوّل پر قابض صیہونی حکومت کے وزیر خارجہ یائیر لاپید نے اپنے نام نہاد سفارت خانے کا افتتاح کرنے کے مقصد سے بحرین کے دارالحکومت منامہ کا دورہ کیا تھا اور بحرینی تاناشاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ سے ملاقات بھی کی تھی۔
صیہونی وزیر کے اس سفر کے بعد سے قبلہ اوّل کے غاصبوں کے ساتھ آل خلیفہ حکومت کے تعلقات کے خلاف بحرینی عوام کے جاری اعتراضات اور مظاہروں میں شدت آ گئی ہے۔
بحرین اور صیہونی حکومت نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے 15 ستمبر 2020 کو وائٹ ہاؤس میں تعلقات بحالی کے معاہدے پر دستخط کئے۔
ان مظاہروں میں بحرینی عوام نے ملک کی جیلوں میں قید سیاسی کارکنوں کی فوری رہائی کا بھی مطالبہ دہرایا۔