مسجد اقصیٰ کے حوالے سے اسرائیل کے تمام اقدامات باطل ہیں، خطیب عکرمہ صبری

شیعیت نیوز: مسجد اقصیٰ کے امام اور خطیب عکرمہ صبری نے کہا ہے کہ اسرائیلی ریاست کی کسی عدالت یا دوسرے ادارے کو مسجد اقصیٰ کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں کیونکہ مسجد اقصیٰ صرف مسلمانوں کا مقدس مذہبی مقام ہے جس پر یہودیوں کا کوئی حق نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مسجد اقصیٰ فلسطینی قوم کا مقدس مقام ہے جس کے دفاع کا دفاع پوری مسلم امہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
الشیخ عکرمہ صبری کا کہنا تھا کہ اسرائیلی ریاست کی طرف سے مسجد اقصیٰ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات باطل اور غیرقانونی ہیں کیونکہ یہ اقدامات ایک ایسی عدالت کی طرف سے جاری کیے گئے ہیں جو ایک قابض ریاست کی نمائندگی کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ اقصیٰ صیہونی دشمن کی جیلوں اور ان کے فیصلوں سے برتر ہے۔
خطیب عکرمہ صبری کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی قوانین مسجد اقصیٰ کے تاریخی اسٹیس کو نقصان پہنچانے کی کسی کو اجازت نہیں دیتے۔ اسرائیل کی طرف سے مسجد اقصیٰ کے حوالے سے کسی قسم کا فیصلہ قبلہ اوّل اور مسلمانوں کے دینی امور میں کھلی مداخلت ہے۔
یہ بھی پڑھیں : اسرائیل کا لاپتہ فوجی پائلٹ کی تلاش کے آپریشن میں ناکامی کا اعتراف
انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیلی ریاست کی طرف سے مسجد اقصیٰ کے خلاف کیے گئے اقدامات نسل پرستانہ اور اشتعال انگیزی کے ساتھ ساتھ قابض دشمن کی کھلی جارحیت ہے اوراس کے تمام خطرناک نتائج کی ذمہ داری قابض دشمن اور اس کے ریاستی اداروں پرعائد ہوگی۔
دوسری جانب درجنوں یہودی آباد کاروں نے کل جمعرات کواسرائیلی پولیس کی فول پروف سیکیورٹی میں مسجد قصیٰ میں گھس کر مسلمانوں کے قبلہ اول کی بے حرمتی کی۔ اس موقعے پر یہودی انتہا پسندوں نے مسجد اقصیٰ میں گھس کرتلمودی تعلیمات کے مطابق’خاموش دعا‘ کی رسومات ادا کیں۔
فلسطینی محکمہ اوقاف کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہےکہ بدھ کو درجنوں یہودی آباد کاروں، اسرائیلی طلبا اور انٹیلی جنس اہلکاروں سمیت درجنوں انتہا پسندوں نے قبلہ اول میں گھس کراشتعال انگیز چکر لگائے۔
یہودی آباد کار مراکشی دروازے کے راستے مسجد اقصیٰ کے صحن میں داخل ہوئے۔ اس موقعے پر انتہا پسند یہودی شرپسندوں کو مزعومہ ہیکل سلیمانی کے بارے میں مذہبی بریفنگ بھی دی گئی۔